Al-Risala · November 1983 · page 36

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶

گاندھی جی نے مشہور ڈانڈی مارچ کیا۔ مقصد یہ تھا کہ دو ہزار آدمیوں کو لے کر ساحل پر جائیں اور نمک بنا کر سرکاری حکم کی خلاف ورزی کریں۔ اس موقع ایک انگریز افسر نے کہا تھا : Let him make his salt, Mr. Gandhi will have to find a great more than a pinch of salt to bring down the British Empire. ان کو اپنا نمک بنانے دو۔ مسٹر گاندھی کو چٹکی بھر نمک سے بہت زیادہ بڑی چیز درکار ہوگی کہ وہ برطانی شہنشاہیت کو مغلوب کرسکیں۔

اسی طرح گاندھی جی نے جب چر خا چلایا تو ان کا مذاق اڑایا گیا۔ مگر یہ گاندھی کی بہت گہری تدبیر تھی۔ سیاست کی ایک قسم یہ ہے کہ پہلے ہی مرحلہ میں کوئی اتنا بڑا واقعہ کیا جائے کہ حریف غیر ضروری طور پر چوکنّا ہو جائے اور اپنی بھر پور طاقت کو استعمال کر کے تحریک کو کچل ڈالے۔ دوسری سیاست یہ ہے کہ بظاہر بے ضرر اقدام سے آغاز کیا جائے جو حریف کو اتنا معمولی دکھائی دے کہ وہ اس کو نظر انداز کر دے۔ اس طرح تحریک کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جائے۔ وہ دھیرے دھیرے نفوذ کرتی رہے، یہاں تک کہ حریف کو اس کی ناقابل تسخیر طاقت کا اندازہ اس وقت ہو جب کہ معاملہ اس کے قابو سے باہر جا چکا ہو۔ ہندوستان میں اولاً مسلم لیڈروں نے پہلی قسم کی سیاست چلائی اور وہ نا کام رہے۔ اس کے بعد گاندھی جی نے دوسرے قسم کی سیاست چلائی اور وہ کامیاب رہے۔ مہاتما گاندھی کا ”چٹکی بھر نمک “ بالآخر اتنا بڑا پہاڑ بن گیا جس کا بوجھ سنبھالنا برطانی سلطنت کو ناممکن دکھائی دینے لگا اور اس نے ہندوستان کو آزاد کر دیا۔

دہلی سے طرابلس کے لئے میں ۱۹ دسمبر کی صبح کو چلا تھا اور اسی دن شام کو میں طرابلس پہنچ گیا۔ اس تقریباً ۹ ہزار کلومیٹر کے سفر کا آمد و رفت کا کرایہ ۱۳۶۵۸ روپیہ ہے۔ قدیم زمانہ میں ایسے سفر کے لئے اتنی رقم درکار نہیں ہوتی تھی۔ مگر دوسری اس سے بڑی چیز جو درکار ہوتی تھی وہ وقت تھا۔ آج ایک شخص دہلی سے روانہ ہو کر ۱۲ گھنٹے کے اندر طرابلس پہنچ جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں ایسے سفر کے لئے ۱۲ مہینے بھی یقین نہیں تھے۔ مزید یہ کہ جانے والا اپنے متعلقین کو اس درمیان میں کوئی خبر نہیں بھیج سکتا تھا۔ اس کے متعلقین کو اس کی خبر صرف اس وقت ہوتی تھی جب کہ وہ برسوں کے بعد اپنا سفر پورا کر کے دوبارہ اپنے وطن واپس آئے۔ جب کہ موجودہ زمانے کی امکانیات کا یہ حال ہے کہ یکم جنوری ۱۹۸۳ء کو جب واپسی کے لئے میرا رز رویشن ہوا تو اسی دن ٹیlex کے ذریعہ بھیجی ہوئی خبر دہلی میں میرے دفتر کو پہنچ گئی کہ ۵ جنوری کی صبح

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page