نیا 20 نکاتی پروگرام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۳
فرمایا، جس چیز کا پینا حرام ہے اس کا بیچنا بھی حرام ہے اس کے بعد اس نے حکم دیا اور اس کی شراب بطاہر میں بہادی گئی مومن کے اندر بھی وہی جذبات ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں میں ہوتے ہیں۔ کبھی خواہش کے زیر اثر وہ لفظی تاویل کرتا ہے، کبھی اس کے اوپر مال کی محبت غالب آجاتی ہے۔ مگر یہ سب اس وقت تک ہے جب تک خدا کا حکم اس کے سامنے نہ آئے۔ خدا کا واضح حکم سامنے آتے ہی وہ اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ لفظی تاویلوں کو بھی بھول جاتا ہے اور اسی کے ساتھ مال یا کسی دوسری چیز کی محبت کو بھی۔
موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ فرشتہ ہونے کا ثبوت دے۔ یعنی کبھی کوئی غلطی نہ کرے اور نہ کبھی کوئی برا خیال اس کے دل میں آئے۔ اس قسم کی پارسائی فرشتوں سے مطلوب ہے نہ کہ انسان سے۔ انسان سے اس کے رب کو جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ تنبیہ کے بعد غلطی پر اصرار نہ کرے ۔
انسان کو جن جذبات کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور جس قسم کی دنیا میں اس کو رکھا گیا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے دل میں غلط خیالات آئیں گے ۔ وہ غلط باتیں سوچے گا اور عملاً بھی غلط کام کر گزرے گا۔ مگر اس قسم کی کسی غلطی کو وقتی غلطی ہونا چاہیے نہ کہ مستقل ۔ جب بھی آدمی کا ضمیر ٹوکے یا کوئی خارجی آواز اس کی غلطی پر اس کو متنبہ کرے تو اس وقت اس کو ضد اور ہٹ دھرمی کے بجائے سیدھے طریقہ پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیے اور فوراً اپنی اصلاح کی کوشش میں لگ جانا چاہئے۔
انسان کا کمال غلطی کر کے دوبارہ پلٹ آنے میں ہے نہ کہ سرے سے غلطی نہ کرنے میں۔ غلطی ہو جانا جرم نہیں ہے، بلکہ غلطی پر قائم رہنا جرم ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جنت ان متقیوں کے لئے ہے جن کا حال یہ ہو کہ جب وہ کوئی برائی کر بیٹھیں یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر ڈالیں تو وہ اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرے اور وہ جانتے ہوئے اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے (آل عمران ۱۳۵)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues