کیسا عجیب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴
کیسا عجیب
گاندھی جی کی مشہور شاگرد میرا بہن ایک انگریز خاتون تھیں، جن کا اصل خاندانی نام میڈی لین سلیڈ (Madeleine Slade) تھا۔ وہ سرایڈ منڈ سلیڈ کی لڑکی تھیں ۔ ان کو اپنے لئے ایک ”زندہ خدا“ کی تلاش تھی۔ ابتداً انہوں نے مشہور موسیقار بیتھوون میں اپنی اس تلاش کا جواب پایا۔ تاہم ان کی فطرت اس پر پوری طرح مطمئن نہ تھی۔ اس کے بعد ان کی ملاقات مشہور فرانسیسی مفکر رولینڈ رولاں سے ہوئی۔ رولینڈ رولاں گاندھی جی سے بہت متاثر تھا، اُس نے مس سلیڈ سے کہا، "کیا تم نے گاندھی جی کے بارے میں نہیں سنا؟ " مس سلیڈ نے کہا۔ "نہیں" رولینڈ رولاں نے کہا " وہ دوسرے مسیح ہیں۔ "
He is another Christ
اس کے بعد مس سلیڈ نےمہاتماگاندھی کا مطالعہ شروع کیا اور ان کی اتنی گرویدہ ہوئیں کہ اپنا وطن چھوڑ کر مستقل طور پر ہندوستان آنے کے لئے تیار ہوگئیں۔
یہ ۱۹۲۴ کا واقعہ ہے مس سلیڈ نے سمندری جہاز پر اپنے لئے ایک برتھ رزرو کی تاکہ وہ جلد سے جلد ہندوستان پہنچ سکیں۔ اس کے بعد اچانک انہیں خیال آیا کہ میں گاندھی جی کے ملک میں جارہی ہوں گرمیں گاندھی جی کے ملک کی زبان نہیں جانتی۔ انہوں نے ہندوستان کی زبان کے بارے میں معلومات کیں تو انھیں بتایا گیا کہ ہندوستان کی عام زبان اردو ہے۔ چنانچہ انھوں نے اردو زبان سیکھنے کے لئے اپنے سفر ہند کو ایک سال کے لئے ملتوی کر دیا۔ وہ اس سے پہلے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانیں جانتی تھیں، انھوں نے دوبارہ محنت کر کے اردو سیکھی اور پھر ۱۹۲۵ میں ہندوستان آئیں۔
گیٹا سرنی (Gitta Sereny) نے میرا بہن (سابق مس میڈی لین سلید) کے حالات لکھے ہیں ڈائمس آف انڈیا (۵ دسمبر ۱۹۸۴) انھوں نے مذکورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
In the fall of 1924, four months into her training included learning Urdu and converting to vegetarianism. ۱۹۲۴ کی موسم خزاں کے چار مہینے مس سلید کے لئے تربیتی مہینے تھے، ان میں اس نے اردو زبان سیکھی اور اپنے آپ کو سبزی خوری کا عادی بنایا ۔ پچاس سال پہلے ملک کی عام زبان اردو تھی۔ یہ دین کی عمومی اشاعت کا بہت بڑا موقع تھا۔ مگر اس کو مسلمانوں نے لایعنی سیاست کے لئے استعمال کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے یہ موقع ان سے چھین لیا۔ اب اردو کے ذریعہ یہاں نہ سیاست کا کام کیا جاسکتا ہے اور نہ اشاعت دین کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues