Your freedom ends where my nose begins
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۷
نہ سکے۔ بالآخر میں نے یہ لفظ کاغذ پر لکھا۔ اس کو دیکھ کر انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ یہ لوگ نفیج کا تلفظ ندگ کرتے ہیں۔ تلفظ میں اس قسم کے فرق کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ غیر عرب کی بات عرب کی سمجھ میں پوری طرح نہیں آتی اور اس طرح عرب کی بات غیر عرب سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔
عربوں میں یہ عجیب ذوق نظر آتا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں ان کے یہاں اسلامی الفاظ کے بجائے عام قسم کے معاشرتی الفاظ رائج ہو گئے ہیں۔ مثلاً جزاک اللہ کی جگہ شکراً، السلام علیکم کی جگہ صباح الخیر وغیرہ۔ موجودہ الفاظ بھی اگر چہ اچھے الفاظ ہیں۔ مگر اسلام کے دعائیہ الفاظ میں جو معنویت ہے وہ کسی اور لفظ میں نہیں ہو سکتی۔
۴ جنوری کو واپس ہوتے ہوئے میں طرابلس کے ہوائی اڈہ (مطار) پر پہنچا تو ظہر کا وقت ہو چکا تھا۔ وہاں میں نے سمت قبلہ دریافت کی تو مجھے بتایا گیا کہ یہاں مسجد موجود ہے۔ آپ مسجد میں جاکر نماز ادا کر لیں۔ ہدایت کے مطابق میں آگے بڑھا تو ایک خوبصورت بورڈ پر ”مسجد“ لکھا ہوا تھا۔ اندر داخل ہوا تو وہاں ایک بڑا کمرہ تھا جس میں مسجد کی تمام ضروریات کا انتظام تھا۔ وہاں کچھ لوگ پہلے سے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے بھی اطمینان سے نماز ادا کی اور اس کے بعد طرابلس سے روم جانے والا جہاز پکڑنے کے لئے باہر آیا۔
۵ جنوری ۱۹۸۳ء کو میں دہلی واپس آیا۔ واپسی میں ہوائی جہاز میں میری سیٹ کے بغل میں ایک مستشرق تھے، وہ روم سے ہندوستان جانے کے لئے سوار ہوئے۔ کھانے کا وقت آیا تو میں نے ”ویجیٹیرین“ مانگا۔ مذکورہ مستشرق نے بھی ویجیٹیرین کی فرمائش کی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ تو یورپ کے رہنے والے ہیں اور یورپ میں عام طور پر گوشت پسند کیا جاتا ہے۔ پھر آپ نے ویجیٹیرین کی فرمائش کیوں کی۔ Dr. J. Uacek, Oriental Department Charles University, Prague, Czechoslovakia. انہوں نے کہا کہ میں انڈین کلچر پر ریسرچ کر رہا ہوں اور اس وقت اسی سلسلے میں ہندوستان جا رہا ہوں۔ جب میں نے انڈین کلچر پر ریسرچ کا فیصلہ کیا تو اسی کے ساتھ میں نے یہ بھی ارادہ کیا کہ میں اپنے آپ کو انڈین طریقہ کا عادی بناؤں اور اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ اس کے قریب کروں تاکہ بخوبی طور پر اس کو سمجھ سکوں۔ چنانچہ اسی وقت سے میں گوشت چھوڑ کر سبزی کھانے لگا ہوں۔ چوں کہ ہمارے یہاں سبزی ملنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے اس لئے میری بیوی میرے گھر کے کمپاؤنڈ میں سبزی اگاتی ہیں اور میرے لئے الگ سے سبزی پکاتی ہیں۔ اسی کے ساتھ میں نے سنسکرت زبان بھی سیکھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues