Al-Risala · November 1983 · page 46

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۶

اس میں ہر چیز کا ذکر ہے مگر خدا کا کوئی ذکر نہیں۔ ـــــ وہ کہانی بھی کیسی عجیب کہانی ہے جس سے اس کے ہیرو کو حذف کر دیا گیا۔

یہاں نماز کے وقت ٹیلی وژن سے اذان نشر ہوتی ہے۔ ایک روز میں نے مغرب کے قریب کمرہ کا ٹیلی وژن کھولا تو نہایت عمدہ عربی آواز میں اذان کی آواز آنے لگی۔ اذان کے وقت ٹیلی وژن اسکرین پر مؤذن کی تصویر نہیں آ رہی تھی۔ بلکہ قدرت کے مختلف مناظر ایک کے بعد ایک دکھائے جا رہے تھے۔

عمدہ تصویر میں چیزیں اصل سے زیادہ حسین نظر آتی ہیں۔ چنانچہ رنگین ٹیلی وژن پر فطرت کے مناظر عجیب پر کیف معلوم ہورہے تھے۔ آبشار کا بہنا، سبزہ کا لہلہانا، دریا کی روانی، چڑیوں کا چہکنا، پہاڑ کی بلندی، پھولوں کی قطاریں، غرض مختلف قسم کے مناظر فطرت بے حد مسحور کن انداز میں سامنے آرہے تھے۔ اس کے بعد جب موذن نے کہا حی علی الفلاح (آؤ کامیابی کی طرف) تو ایسا معلوم ہوا جیسے جنت کی ایک جھلک دکھا کر کہا جا رہا ہو، کہ یہ ہے خدا پرستی کا بدلہ۔ خدا کے سچے پرستار بن جاؤ اور خدا کی حسین جنت میں اپنے لئے جگہ حاصل کر لو۔

۲۶ دسمبر کی دوپہر کو میجر جلود سے ملاقات تھی۔ قصر الشعب کے خصوصی کمرہ میں ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا۔ انھوں نے عربی زبان میں ایک مفصل تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا اصل کام دعوت اسلامی کا کام ہے۔ اور ہم نے خالص دعوتی کام کے لئے یہ تنظیم قائم کی ہے۔ اس سے مقصود کوئی سیاست نہیں ہے۔ وہاں سے واپسی میں کچھ تاخیر ہوئی۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں واپس پہنچا تو کمرہ کی چھوٹی میز میں ہدایتی بلب جل بجھ رہا تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ میرے نام کوئی پیغام استقبالیہ کے دفتر میں موجو د ہے۔ میں نیچے گیا تو انھوں نے ایک نوٹ میرے حوالے کیا، اس میں لکھا تھا: The Indian Ambassador has telephoned and wants to see you (طرابلس میں ہندوستان کے سفیر نے آپ کو ٹیلی فون کیا ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں) اس بعد میں نے ٹیلی فون پر سفیر ہند (مسٹر ارجن اسرانی) سے بات کی۔ اگلے دن موصوف کی طرف سے دوسرا ٹیلی فون ملا کہ وہ اپنی رہائش گاہ پر میرے لئے شام کے کھانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں میرے پروگرام کچھ اس قسم کے تھے کہ میں سفیر موصوف کے لئے مزید کوئی وقت نہ نکال سکا اور اس احساس کے ساتھ واپسی ہوگئی کہ میں موصوف کی دلچسپ باتیں سننے سے محروم رہا۔

دو عربوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک بار میں نے نضج (پختگی) کا لفظ استعمال کیا۔ وہ کچھ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page