رسول خدا کا اسوہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۶
رسول خدا کا اسوہ
قدیم عرب میں کعب بن زہیر ایک شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو کعب آپ کے مخالف ہو گئے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشعار لکھتے اور لوگوں کے درمیان ان کو پھیلاتے۔ ان اشعار میں نہایت برے انداز میں آپ کی ہجو اور تنقید ہوتی۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو کعب بن زہیر کو اپنے لئے زمین تنگ دکھائی دینے لگی۔ ان کے بھائی جبیر اسلام قبول کر چکے تھے۔ انہوں نے کعب سے کہا کہ مدینہ جاؤ اور اسلام قبول کر لو۔ اب اسی میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔ کعب بن مالک کے خط کا ایک فقر یہ تھا کہ اگر تم اپنی جان بچانا چاہتے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں حاضر ہو جاؤ۔ کیوں کہ وہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جو ان کے پاس تائب ہو کر آئے۔ فان كانت لك من نفسك حاجة فطر الی رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم فانه لا يقتل احدا جاء تائباً (سيرۃ ابن هشام)
چنانچہ کعب بن زہیر مدینہ آئے۔ اگلے دن صبح سویرے وہ مسجد نبوی پہنچے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو انہوں نے آگے بڑھ کر آپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پہچانتے نہ تھے۔ کعب نے آپ سے کہا کہ میں کعب بن زہیر ہوں۔ میں تائب ہو کر اور مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ آپ سے امان مانگتا ہوں۔ کیا اس کو آپ میری طرف سے قبول کریں گے اور امان دے دیں گے۔
یہ سن کر مدینہ کا ایک مسلمان صف سے اٹھا اور جھپٹ کر کعب تک پہنچا۔ اور کہا کہ اے خدا کے رسول اس دشمن خدا کو میرے حوالے کیجئے تا کہ میں تلوار سے اس کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس کو چھوڑ دو۔ کیونکہ وہ توبہ کر کے اور اپنی حرکت سے باز ہو کر آیا ہے (دعه عنك فانه قد جاء تائباً نازعا عما كان عليه)
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔ اس سے ناقدین اور مخالفین کے بارہ میں اسلام کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی تخریبی ہو اور وہ کتنا ہی تنقیدیں کرتا رہا ہو۔ اگر وہ اپنے فعل کو چھوڑ دے اور تائب ہو کر امن کی درخواست کرے تو اس کو ضرور امن دیا جائے گا۔ ماضی کے تخریبی عمل کی بنیاد پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ اس کی تو بہ ہی اس کے لئے سزا کا بدل بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues