مسجد کو دیکھ کر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۵
مسجد کو دیکھ کر
مولانا محمد علی ہندوستانی مسلمانوں کے انتہائی مشہور لیڈر تھے۔ ان کے زمانہ میں دہلی کے ایک مسلمان پینٹنگ کا کام کرتے تھے۔ وہ مختلف تصویریں بنا کر بیچتے تھے۔ یہی ان کا معاشی ذریعہ تھا۔ ایک بار انھوں نے ایک تصویر بنائی اور یہ تصویر مولانا محمد علی کے سامنے پیش کی تاکہ وہ اس کو خرید لیں۔ اس تصویر میں جامع مسجد دہلی کو دکھایا گیا تھا۔ دہلی کی جامع مسجد کافی اونچائی پر ہے اس کی سیڑھیوں کا عام منظر گداگروں کی موجودگی ہے۔ چنانچہ انہوں نے جو تصویر بنائی اس میں مسجد کے ساتھ یہ بھی دکھایا گیا تھا کہ اس کی سیڑھیوں پر ایک بھیک مانگنے والی عورت اپنے ایک بچہ کو لئے ہوئے کھڑی ہے۔
محمد علی نے تصویر دیکھی تو کہا کہ میں ایک شرط پر اس کو خرید لوں گا۔ وہ شرط یہ ہے کہ تم تصویر کے نیچے یہ جملہ لکھ دو کہ اس کے آباء واجداد نے اسے بنایا تھا :
Her fathers built it
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو بڑے بڑے مسلم لیڈر مختلف ملکوں میں اٹھے وہ کس چیز سے سب سے زیادہ متاثر تھے۔ وہ دراصل اپنے کھوئے ہوئے ماضی کے لئے بچین تھے اور اس کو واپس لانے کے لئے کوشش کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنی تحریکوں کو اگر چہ احیاء اسلام کا عنوان دیا۔ مگر ان کی تحریک کا نشانہ ان کا سیاسی ماضی تھا نہ کہ حقیقۃً احیاء اسلام موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کی یہی نفسیات تھی جس کی وجہ سے وہ کوئی دور رس تعمیری کام نہ کر سکے۔ مثلاً دہلی میں " گزرے ہوئے دور " کی بنی ہوئی کم از کم ایک سو نہایت بڑی مسجدیں تھیں۔ جن میں سے اکثر نیم آباد یا غیر آباد پڑی ہوئی تھیں۔ ان مسجدوں میں اکثر کے پاس بڑی بڑی ملحق زمینیں بھی تھیں۔ یہ لیڈر ان مسجدوں کو مرکز بنا کر زبردست دعوتی اور تعمیری کام کر سکتے تھے۔ مگر وہ مسلمانوں کے سیاسی ماضی کو واپس لانے کے لئے بے فائدہ قربانیاں دیتے رہے اور اس قسم کے تعمیری امکانات غیر استعمال شدہ پڑے رہ گئے۔
ایک مسلمان جو قومی ذہن رکھتا ہو وہ دہلی کی جامع مسجد اور لال قلعہ کو دیکھ کر صرف اپنے سیاسی ماضی کو یاد کرے گا۔ مگر جو مسلمان دعوت و تبلیغ کا ذہن رکھتا ہو وہ جب اس قسم کی عمارتوں کو دیکھے گا تو اس کے اندر یہ جذبہ بھڑک اٹھے گا کہ یہاں دوسری قوموں تک خدا کے دین کا پیغام پہنچانے کا مرکز قائم کیا جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues