اسلامی طریقہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۸
کتاب الصلوۃ )
تصویری مجسمے ہیں۔
۱۴ھ میں حضرت سعد بن وقاص کی سرکردگی میں مدائن فتح ہوا۔ مدائن قدیم ایرانی شہنشاہوں کا دارالسلطنت تھا۔ یہیں ان کا مشہور قصر ابیض (سفید محل) تھا۔ آخری ایرانی حکمراں یزدجرد محل چھوڑ کر بھاگاتو حضرت سعد بن وقاص مدائن کے فاتح کی حیثیت سے قصر ابیض میں داخل ہوئے۔ اس وقت آپ کی زبان پر سورہ دخان کی آیات ۲۵-۲۸ تھیں۔
یہ جمعہ کا دن تھا۔ قصر ابیض میں جس جگہ شہنشاہ کا تخت ہوتا تھا وہاں منبر رکھا گیا آپ نے اس منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور جمعہ ادا کیا۔ یہ پہلا جمعہ تھا جو قدیم ایران کے دارالسلطنت میں ادا کیا گیا۔ فتح مدائن کے جو واقعات تاریخ کی کتابوں میں آئے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ شاہی محل میں جتنی بھی تصویریں اور مجسمے تھے سب بدستور باقی رکھے گئے۔ حضرت سعد بن وقاص نے نہ ان کو توڑا اور نہ ان کو وہاں سے جدا کیا۔ اس سلسلے میں یہاں تاریخ کے دو حوالے نقل کئے جاتے ہیں: ثم انتھیٰ الى ايوان كسرى وصلى فيه صلوة سعد بن ابی وقاص ایوان کسریٰ پہنچے۔ اور اس الفتح ولا صلى جماعة فصلى ثمانية ركعات کے اندر فتح کی نماز پڑھی۔ اور جماعت نہیں کی۔ لا يفصل بينهن واتخذه مسجداً وفيه انھوں نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، ان کے درمیان تماثيل الجص رجال وفيل ولم يمتنع و فصل نہیں کیا (ایک سلام سے آٹھ رکعتیں) لا المسلمون لذالك وتركوها علی حالها اور اس کو مسجد بنایا حالانکہ اس میں انسان اور (تاريخ الطبرى ، جلد ۴) واتخذ سعد گھوڑے کے مجسمے موجود تھے۔ اور نہ سعد بن ابی ایوان کسرى مصلى ولم يغير ما فيه من وقاص نے اور نہ مسلمانوں نے اس سے تعرض کیا التماثيل ( الكامل في التاريخ جلد ۲ ) اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اور سعد بن ابی وقاص نے کسریٰ کے ایوان کو مسجد بنایا اور اس میں جو مجسمے تھے ان میں کوئی تبدیلی نہ کی۔
صحابہ کرام نے جو کچھ کیا اس کی وجہ ان کا داعیانہ مزاج تھا۔ وہ اس قسم کے معاملات کو ہمیشہ دعوتی نقطہ نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کا داعیانہ مزاج سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ جو چیزان کے سامنے لاتا تھا وہ غیر مسلم اقوام کو دعوت حق کا مخاطب بنانا تھا۔ بقیہ تمام چیزیں ان کی نظر میں ثانوی تھیں۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ اسلام میں اپنی زبردست فکری قوت ہے کہ غیر مسلم اقوام اس کے آگے مسخر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ اور جب قومیں مسخر ہو جائیں تو بقیہ تمام مقاصد اپنے آپ حاصل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد شرک بھی مٹ جاتا ہے اور شرک کے تمام آثار اور علامات بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues