شکایات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۹
شکایات
ہندوستان کی آزادی سے پہلے کا واقعہ ہے۔ دیہات کے ایک آدمی شہر آئے اور اپنے ایک ملاقاتی کے یہاں مقیم ہوئے۔ ان کی ضیافت کے لئے گھر کے اندر سے خربوزہ بھیجا گیا۔ ایک بڑی پلیٹ میں خربوزہ کے ساتھ چھری رکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے جب اس کو دیکھا تو سخت حیران ہوئے۔ اٹھوا نے کہا، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خربوزہ اور چھری کا کیا جوڑ ہے۔ حتیٰ کہ انھوں نے خربوزہ کھائے بغیر اسے لوٹا دیا۔
بعد کو ایک شخص نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ خربوزہ کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ سے دبا کر اس کو توڑ اور کھاگئے۔ پھر یہ چھری کس لئے۔ میں تو اسے ٹوٹوناٹکا سمجھا، اس لئے میں نے اسے نہیں کھایا۔
اسی قسم کا ایک اور واقعہ مذکورہ شخص کے ساتھ رات کو پیش آیا۔ رات کو جب ان کے سونے کے لئے بستر بچھایا گیا تو ان کے بستر پر ایک تکیہ بھی تھا۔ وہ رات بھر تکیہ کو دیکھتے رہے اور سو نہ سکے۔ بعد کو اس کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ میں تو یہی سمجھا کہ اس کے اندر مال ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اس ”گٹھری“ کی رکھوالی کروں یا سوؤں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے کے بارے میں شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس کے خلاف سخت برہم ہو جاتا ہے۔ اپنے طور پروہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی شکایت اوربرہمی بالکل بجا ہے ۔ حالانکہ اس کی وجہ صرف اس کا ناقص علم ہوتا ہے۔ پوری صورت حال سے بے خبری کی بناپر وہ بطور خود ایک رائے قائم کر لیتا ہے اور اس پر شدت سے قائم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اصل واقعہ کے اعتبار سے اس کی شکایت کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
اس برائی سے بچنے کی ترکیب قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ جب بھی کوئی بات سنو تو اس کی تحقیق کر لو۔ اگر آدمی واقعۃ سنجیدہ ہو تو وہ دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرے گا۔ یا تو سنی ہوئی بات کو بھلا دے گا اور اس کا کوئی چرچا نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی وجہ سے وہ اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ متعلقہ شخص سے اس کی تحقیق کرے گا۔ اور تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئے گی اس کو مان لے گا۔ تحقیق کے بغیر شکایتوں کا چرچا کرنا جتنا غلط ہے اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ تحقیق کے بعد بھی آدمی اپنی رائے پر قائم رہے۔ متعلقہ شخص کی تردید کے باوجود وہ اس کو مسلسل دہراتا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues