Al-Risala · December 1983 · page 12

دنیا کی حقیقت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲

دنیا کی حقیقت

مسٹر آر ۔ این پانڈے (۳۵ سال) ہندوستانی فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے۔ وہ ۱۲ نومبر ۱۹۸۳ کو جموں توئی ایکسپریس پر سوار ہوئے۔ ٹرین آگے بڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ غلط ٹرین پر سوار ہو گئے ہیں۔ انہیں دراصل انکل ایکسپریس پر سوار ہونا چاہئے تھا۔ جب اوکھلا کا اسٹیشن آیا تو وہ فرسٹ کلاس کا دروازہ کھول کر باہر کود پڑے ۔ ٹرین اس وقت پوری رفتار میں تھی۔ وہ پہیہ کے نیچے آگئے اور اسی وقت کٹ کر مر گئے (ہندوستان ٹائمز ۱۳ نومبر ۱۹۸۳) یہ واقعہ موجودہ دنیا میں انسان کی بے بسی کی ایک تصویر ہے۔ انسان ٹرین بناتا جب وہ اس پر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو لے کر دوڑتی ہے اور منزل پر پہنچا دیتی ہے۔ مگر اسی ٹرین کے مقابلہ میں انسان اتنا کمزور ہے کہ اس کے پہیہ کے نیچے آنے کے بعد وہ اسی کی زد سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔

ایک کامیاب انسان ہے ۔ وہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتا ہے جو اس کی خوش حال زندگی کی علامت ہے۔ اس کے گھر کے سامنے موٹر کار کھڑی ہوتی ہے جو اس کی شان میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ ایک کارخانہ کا مالک ہے جو اس کی دولت اور ترقی کا سر چشمہ ہے۔ اس کے بے شمار ساتھی ہیں جو اس کی قوت و شوکت کا زندہ ثبوت ہیں۔

یہ وہ چیزیں ہیں جن سے آدمی کی دنیوی ترقی کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ تمام چیزیں سمیٹ کر اوپر سے آدمی کے سر پر گرائی جائیں تو وہ اس کی بربادی کا ذریعہ بن جائیں گی ۔ یہ گویا ایک بہت بڑا ملبہ ہوگا جو آدمی کے اوپر پٹک دیا گیا اور اس کے نیچے دب کر اس کا وجود فنا ہو گیا۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دنیوی ترقی کی حقیقت کیا ہے۔ دنیا کی تمام ترقیاں اسی وقت تک ترقیاں نظر آتی ہیں جب تک وہ فریب کے روپ میں ہوں۔ جیسے ہی وہ اپنے اصلی روپ میں آئیں وہ صرف بربادی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ یہ ترقیاں اپنے آخری انجام کے اعتبار سے کسی کے لئے قبرستان تو بن سکتی ہیں مگر وہ کسی کے لئے کامیابی کا شاندار محل نہیں بن سکتیں۔

لذتیں جنت میں لذت ہیں اور دنیا میں صرف فریب لذت ۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ جو چیز جنت میں ملنے والی ہے اس کو وہ موجودہ دنیا ہی میں پا ناچاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے آدمی یہاں بھی محروم رہتا ہے اور وہاں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page