خدائی کارخانہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
خدائی کارخانہ
سورج گویا قدرت کا ایک کار خانہ ہے جو مادہ کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے۔ گائے ایک زندہ ۔ کار خانہ ہے جس میں گھاس داخل ہوتی ہے اور گوشت اور دودھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح درخت قدرت کا ایک کار خانہ ہے جس میں مٹی اور پانی اور گیس داخل ہوتے ہیں اور وہ پھول اور پھل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
یہ عمل جو سورج اور درخت اور جانور میں کامیابی کے ساتھ ہو رہا ہے، یہی عمل انسان سے بھی اس کے خالق کو مطلوب ہے۔ فرق یہ ہے کہ کائنات کی دوسری چیزوں میں تبدیلی کا عمل قانون قدرت کے تحت مجبورانہ طور پر انجام پاتا ہے۔ اور انسان میں تبدیلی کا یہ عمل خود انسان کے اپنے ارادہ کے تحت اختیارانہ طور پر انجام دیا جاتا ہے۔ دوسری چیزوں میں تبدیلی مادی اعتبار سے ہو رہی ہے اور انسان کے اندر خدائی اعتبار سے۔
انسان سے اس کے پیدا کرنے والے کو یہ مطلوب ہے کہ وہ خارجی دنیا کے مشاہدات کو دلائل خداوندی میں تبدیل کردے۔ جو چیز اس کے اندر صرف بطور معلومات“، داخل ہوئی تھی اس کو اپنے ذہن میں "معرفت" کی صورت دے سکے۔ اس کو جب دنیا میں کوئی کامیابی حاصل ہو تو اس کو وہ تمام تر خدا کے خانہ میں ڈال دے۔ اس کو جب کوئی ناکامی ہو تو اس کے ذریعہ وہ عجز انسانی کی حقیقت کو دریافت کرے ۔ اس کو جب کسی سے شکایت ہو تو اس کا اندرونی نظام اس کو معافی اور درگذر کی صورت میں تبدیل کرے۔ وغیرہ جو زمین اپنی مٹی کو درخت کی صورت میں تبدیل کرے اس کو زرخیز زمین کہا جاتا ہے۔ اور جو زمین اپنی مٹی کو درخت کی صورت میں تبدیل نہ کر سکے وہ بنجر زمین کہی جاتی ہے۔ یہی معاملہ انسانوں کا بھی ہے۔ جو انسان اپنے اندرونی نظام کو اس طرح بیدار کرے کہ وہ خام چیزوں کو اعلیٰ چیزوں میں تبدیل کرنے لگے وہ مومن ہے اور جس انسان کا اندرونی کار خانہ ایسا کرنے میں ناکام رہے وہ کافر ہے۔ زرخیز زمین اور بنجر زمین میں جو فرق ہے وہی فرق مومن اور غیر مومن کے درمیان پایا جاتا ہے۔ زرخیز زمین کے حصہ میں شادابی آتی ہے اور بنجر زمین صرف اجاڑ پڑی رہتی ہے۔ اسی طرح مومن انسان کے لئے خدا کے یہاں ہمیشہ کی جنت ہے اور غیر مومن انسان کے لئے خدا کے یہاں ہمیشہ کی جہنم۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues