بامقصد زندگی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۱
یہ کہ انسان کی مابہ الامتیاز خصوصیت یہ ہے کہ وہ تصوری فکر (Conceptual Thought) کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب کہ دیگر حیوانات اس سے محروم ہیں۔ انسان جب سوچتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ میں سوچ رہا ہوں۔ وہ اپنے عمل کا شعوری طور پر اپنے ذہن میں نقشہ بناتا ہے۔ وہ ارادی فکر کے ساتھ کام کرتا ہے ، جب کہ دیگر حیوانات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ بظاہر وہ بھی بہت سے ایسے کام کرتے ہیں جو انسان کرتا ہے۔ مگر ان کا عمل سوچے سمجھے فکر کا نتیجہ نہیں ہوتا ۔ بلکہ محض جبلت کے تحت ہوتا ہے۔ ان کی خواہشیں زور کرتی ہیں ۔ ان کی ضروریات ان سے تقاضا کرتی ہیں ، ان کی طبیعت انہیں اکساتی ہے۔ اور اس طرح خارجی اثرات اور اندرونی دباؤ کے تحت وہ کوئی کام کرنے لگتا ہے۔
انسان کی اسی امتیازی خصوصیت میں اس بات کا جواب ہے کہ وہ کون سا کام ہے جو انسان کا اعلیٰ ترین مقصد قرار پاسکتا ہے۔ یہ مقصد وہی ہو سکتا ہے جو خواہشات کے دباؤ یا فوری ضروریات کے تقاضے کے تحت نہ بنا ہو بلکہ وہ سوچی سمجھی ہوئی ایک راہ ہو جس میں انسان کے امتیازی وصف کی شان پائی جائے ، جس میں انسانی شخصیت کا اعلیٰ ترین پہلو جگمگا رہا ہو۔ جس میں انسان اپنی بلند ترین حیثیت میں پوری طرح نمایاں ہو گیا ہو۔
یہاں پہنچ کر جب ہم قرآن کو دیکھتے ہیں تو وہاں اس سلسلے میں ہم کو واضح رہنمائی ملتی ہے۔ قرآن میں انسانی زندگی کا مقصد ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے :
وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون اور میں نے جن اور انسان صرف اس لئے بنائے ما اريد منهم من رزق وما اريد ان يطعمون ہیں کہ وہ میری عبادت کریں میں ان سے رزق ان الله هو الرزاق ذو القوة المتين ہ نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا کہ وہ مجھ کو کھلائیں ذاريات - آخر اللہ ہی روزی دینے والا اور زور اور مضبوط ہے۔
ان آیات میں انسانی زندگی کا مقصد خدا کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ مقصد ایسا ہے جس میں انسان کا امتیاز اپنی آخری شکل میں ظہور کرتا ہے۔ یہ مقصد انسان کو حیوانی سطح سے اتنا اوپر لے جاتا ہے کہ حیوانی زندگی کی کوئی آلائش اس کے ساتھ باقی نہیں رہتی۔ آیت میں کہا گیا ہے کہ خدا تم سے اپنے لئے روزی نہیں مانگتا ۔ بلکہ وہ خود تمہاری روزی کا ذمہ دار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی عبادت زندگی کا ایسا مقصد ہے جو محض اندرونی خواہشات کے زور یا خارجی اثرات کے دباؤ سے نہیں بن جاتا ۔ بلکہ وہ خالص فکر کے تحت وجود میں آتا ہے۔ آدمی اپنی ذات اور اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues