Al-Risala · December 1983 · page 30

بامقصد زندگی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰

بامقصد زندگی

انسان کا اعلیٰ ترین شرف کیا ہے ۔ اس کا ایک ہی جواب ہے ۔ اور وہ ہے بامقصد زندگی۔ بامقصد زندگی انسانی ترقی کی اعلیٰ ترین منزل ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی ایسا کام جس میں بظاہر کوئی غرض شامل ہو اس کو اختیار کرنے سے زندگی بامقصد ہو جائے گی ۔ نہیں ۔ بلکہ وہی زندگی حقیقتاً بامقصد زندگی ہے جس میں انسان اپنی اعلیٰ ترین حیثیت کو پالے، جس میں اسکی شخصیت اپنے امتیازی وصف کے ساتھ ظہور کر سکے ۔

ایک جانور اپنی غذا کے لئے دوڑ رہا ہے ، ایک چڑیا موسم کی تبدیلی کے وقت کسی دوسرے بہتر علاقے کی تلاش میں اُڑان کر رہی ہے ، ایک بھڑ مٹی کے گارے سے اپنا مکان بنانے میں مصروف ہے ، ہرن کا ایک غول جنگل کے درندوں سے بچاؤ کے لئے تدبیر اختیار کر رہا ہے ۔ بظاہر یہ سب بامقصد عمل کی صورتیں ہیں ، مگر بامقصد زندگی کا لفظ جب انسان کے لئے بولا جائے تو اس سے مراد اس قسم کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی۔ بلاشبہ انسان کو دنیا میں جو کچھ کرنا ہے اس میں سے ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لئے کھانا، کپڑا، مکان اور دوسری ضروریات کا انتظام کرے، مگر یہ مقصدیت کی وہ سطح ہے جہاں انسان اور حیوان دونوں یکساں ہوتے ہیں۔ جبکہ انسان کے اعتبار سے بامقصد زندگی صحیح معنوں میں وہ ہوگی جہاں وہ اپنے حقیقی شرف کے ساتھ نظر آرہا ہو۔ جب وہ مشترک حیوانیت آگے بڑھ کر ممتاز انسانیت کی شکل اختیار کر لے۔ دنیا میں دو طرح کی چیزیں ہیں ۔ جاندار اور بے جان ۔ ظاہر ہے کہ جاندار چیزوں کو بے جان اشیاء پر ایک برتری حاصل ہے ۔ اب جاندار چیزوں کو دیکھئے تو ان کی تین قسمیں ملیں گی۔ نباتات ، حیوانات اور انسان ۔ جدید سائنس دانوں نے تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ نباتات بھی ذی حیات اشیاء ہیں ، ان کے اندر نمو، حرکت ، تغذیہ ، احساس اور اس طرح کی دوسری چیزیں پائی جاتی ہیں جو صرف ذی حیات اشیاء کی خصوصیات ہیں۔

مگرحیات کا زیادہ اعلیٰ نمونہ حیوانات اور انسان ہیں ۔ انسان کو حیوانات پر کس پہلو سے تفوق حاصل ہے ، اس کا جواب عرصہ سے دیا جاتا رہا ہے۔ اور بڑے بڑے اذہان اس پر کام کرتے رہے ہیں ۔ مگر موجودہ زمانہ کے علمائے حیاتیات کا ذہن جہاں آکر ٹھہرا ہے وہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page