بامقصد زندگی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵
عنوان بن چکا ہے ۔ خدا کی دی ہوئی آزادی کو صرف فساد اور بگاڑ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ خدا کی پیدا کی ہوئی نعمتیں کے لئے لوٹ کا میدان بنی ہوئی ہیں ۔ خدا کی دنیا میں انسان نے خود اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر بٹھا رکھا ہے ۔ ظلم اور فساد اتنا بڑھ چکا ہے کہ انسانی نسل پر دوبارہ وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو حضرت نوح نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے بارہ میں کہے تھے : انك ان تذرھم یضلواعبادک ولا يلدوا إلا فاجرا كفارا (نوح ۲۷) بگاڑ کی یہ انتہا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کا فیصلہ ظاہر ہو۔ وہ وقت آ گیا ہے کہ دوبارہ زمین پر ایک طوفانِ نوح برپا ہو ، تاکہ تمام برے لوگ اس میں غرق کردئے جائیں اور تمام اچھے لوگ اس سے بچا کر اس آخری دنیا میں پہنچا دئے جائیں جو خدا کی مطلوب دنیا ہوگی ، مثالی اور ابدی دنیا۔
مگر طوفانِ نوح سے پہلے اعلان نوح کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ خدا کے بندوں میں سے کچھ بندے اٹھیں اور اپنی صحیح ترین اور کامل ترین صورت میں حق کا اعلان کر دیں ۔ خدائی موسم اب آخری طور پر آ چکا ہے ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کوئی کسان اپنا بیج لے کر زمین میں ڈال دے ۔ جس دن یہ واقعہ ہوگا اسی دن خدا کا معجزاتی کرشمہ بھی ظاہر ہو جائے گا۔ خدا کی نصرتیں اس بندہ کے اوپر آسمان کے دروازے پھاڑ کر ٹوٹ پڑیں گی تاکہ جو کچھ بندے کو کرنا ہے بندہ اسے انجام دیدے۔ اور تاکہ خدا کو جو کچھ کرنا ہے خدا اس کو ظہور میں لے آئے ۔
اعلان حق کا مطلب حق کو آخری حد تک مبرہن کردینا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کل خدائی کی سطح پر کھولا جانے والا ہے اس کو آج بندگی کی سطح پر لوگوں کے لئے کھول دیا جائے۔ اس کے بعد وہ لوگ ایک طرف ہو جاتے ہیں جنہوں نے حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیا تھا ۔ اور وہ لوگ دوسری طرف ہو جاتے ہیں جنہوں نے حق کو نہیں پہچانا اور اپنے آپ کو اس کی سمت میں کھڑا نہیں کیا۔ جب یہ عمل پورا ہو جاتا ہے تو اس کے فوراً بعد خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے ۔ اس وقت لوگ دیکھ لیتے ہیں کہ پہلا گروہ جنت کے زمین پر کھڑا ہوا تھا اور دوسرا گروہ جہنم کے زینہ پر۔ (۴ جون ۱۹۸۳)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues