Al-Risala · December 1983 · page 26

منزل کی طرف

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶

منزل کی طرف

آج کے اس جلسے کا جو عنوان ہے وہ محض ایک عنوان نہیں ہے بلکہ یہ وقت کے دل کی دھڑکنیں ہیں۔ ہم ایک ایسے مسئلے پر سوچنے کے لئے جمع ہوئے ہیں جو ساری دنیا کو درپیش ہے اور جس پر ہر جگہ غور و فکر کیا جا رہا ہے ۔ یوں سمجھئے کہ پوری انسانیت کی طرف سے ایک سوال کیا گیا ہے اور ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہے۔

پچھلی چند صدیوں کی تاریخ مذہب کے خلاف انسان کی بغاوت کی تاریخ ہے۔ قدیم ترین زمانے سے مذہب کو یہ حیثیت حاصل تھی کہ وہ فکر و عمل کے ہر میدان میں انسانی زندگی کی رہنمائی کرتا تھا۔ مگر صنعتی انقلاب اور سائنس کی ترقی کے بعد جب انسان تمدنی اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہوا تو اسی کے ساتھ اس نے چاہا کہ ہر اس چیز سے علیحدگی اختیار کرلے جس کا تعلق ماضی سے ہو۔ چنانچہ اس نے مذہب کے پرانے راستے کو چھوڑ کر نئی خود ساختہ راہوں پر اپنا سفر شروع کر دیا۔ گاڑی کی تبدیلی کے ساتھ اس نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ اس کی سمت بھی نئی ہونی چاہئے۔ لیکن پچھلے سو برس کے تجربے نے اس خیال کی غلطی واضح کردی ہے۔ زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اس قسم کی جتنی کوششیں کی گئیں وہ بری طرح ناکام ثابت ہوئیں ۔ اور اب انسان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جائے۔ انسانیت کا بھٹکا ہوا قافلہ دوبارہ اپنی صحیح منزل کی طرف واپس ہونے کے لئے بے چین ہے۔ مذہب جو ماضی میں انسان کا دستور العمل تھا وہ مستقبل میں پھر انسان کا دستور العمل بننے والا ہے۔

قانون کی ناکامی

پچھلے سماج میں مذہب جو کام کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ صدیوں کے دوران میں مختلف بزرگوں کی تعلیم و تلقین کی وجہ سے کچھ خاص تصورات لوگوں کے ذہنوں میں رچ بس گئے تھے۔ اور ان کے خلاف سوچنا یا عمل کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا ۔ مذہب کی منسوخی کے بعد جب یہ گرفت لے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس دوران میں مذہب کا بالکل خاتمہ ہو گیا ہو۔ زندگی کے دھارے کے نیچے وہ ہمیشہ باقی رہا اور آج بھی باقی ہے۔ البتہ زندگی کی سرگرمیوں میں پہلے جو مقام اسے حاصل تھا وہ بعد کو اسے حاصل نہیں رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page