مادی فلسفہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸
میں ناکامی تمام تر قانون کے حصے میں آئی ہے۔
مادی فلسفہ
دوسری چیز جو بہتر سماج کا خواب پورا کرنے کے سلسلے میں انسان کے سامنے تھی وہ مادی خوش حالی ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ جب لوگوں کی آمدنیاں بڑھ جائیں گی، جب لوگوں کو اپنی ضرورت کی چیزیں فراغت کے ساتھ حاصل ہونے لگیں گی تو وہ کس لئے بدعنوانی کریں گے۔ کس لئے دوسروں کو تکلیف دیں گے، مگر واقعات سے اس نظریے کی تردید ہوتی ہے۔ بلا استثناء تمام ملکوں کا یہ حال ہے کہ وہاں جس رفتار سے مادی ترقی میں اضافہ ہوا ہے اسی نسبت سے جرائم کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ میں یہاں اختصار کے خیال سے صرف انٹرنیشنل کریمنل پولیس کیشُن کی رپورٹ کا حوالہ دوں گا جس نے دنیا کے 4۴ ملکوں کے اعداد و شمار جمع کرکے شائع کئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق غریب ملکوں میں جرائم کا اوسط ان ملکوں سے بہت کم ہے جو خوش حال ہیں، اور جن کا معیار زندگی بہت بڑھا ہوا ہے۔ برطانیہ میں 1946ء میں اٹھارہ سال کا ایک لڑکا صرف دو پونڈ ساڑھے سات شلنگ فی ہفتہ کما سکتا تھا۔ لیکن آج پونے چھ پونڈ کما لیتا ہے۔ اور ہوشیار قسم کے نوجوان سات آٹھ پونڈ سے بھی زیادہ کما لیتے ہیں۔ اور پھر انہیں یقین ہے کہ چند سال بعد جب وہ سن بلوغ کو پہنچیں گے تو وہ تیرہ پونڈ فی ہفتہ کی اوسط قومی آمدنی کے مستحق ہوں گے۔
روزگار کے یہ مواقع اور یہ معیارِ زندگی ہندوستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا اعداد و شمار کے مطابق 1952ء میں ہندوستان میں ایک لاکھ آبادی کے درمیان قابلِ ذکر جرائم کی تعداد ۱۶۵ تھی ۔ جب کہ برطانیہ میں اتنی ہی آبادی میں ۱۳۲۲ جرائم ریکارڈ کئے گئے ۔ امریکہ جو تمام دنیا میں سب سے زیادہ دولت مند ملک سمجھا جاتا ہے وہاں جرائم کی تعداد ایک لاکھ آبادی میں ۱۳۴۲ تھی (لیڈر ۱۸ فروری ۱۹۵۵ء)۔ اور وہاں کے سب سے بڑے تجارتی شہر نیویارک کا تو یہ حال ہے کہ ہر ایک سکنڈ میں شدید جرم کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ جرائم کی اس بڑھتی ہوئی رفتار نے ترقی یافتہ ملکوں میں زندگی کا سکون برہم کر دیا ہے۔ آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے کہ اس کو اپنا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ کسی بینک کو نہیں معلوم کہ کب ڈاکوؤں کا ایک گروہ موٹروں اور مشین گنوں سے مسلح ہو کر اس کے اوپر حملہ کر دے گا۔ کسی خاتون کو نہیں معلوم کہ شام کے وقت جب وہ دفتر سے لوٹ رہی ہو گی تو وہ راستہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues