Al-Risala · December 1983 · page 25

مادی فلسفہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵

اغوا کر لی جائے گی یا واپس اپنے گھر پہنچے گی۔ انگلینڈ میں قاتل کے لئے موت کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مگر جرائم کی بڑھتی ہوئی وبا کو دیکھ کر وہاں کے ایک مشہور اہل قلم اور سابق ممبر پارلیمنٹ سر ایلن ہر برٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ سزائے موت کو دوبارہ جاری کیا جائے ۔ اور نہ صرف قاتل کو بلکہ چوروں ، نقب زنوں اور عورت کی عصمت پر حملہ کرنے والوں کو بھی یہی سزادی جائے۔

اوپر کی گفتگو سے جہاں مادی نظریات کی ناکامی ثابت ہوتی ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ ان کے اندر وہ کون سا بنیادی خلا ہے جس نے انہیں مکمل ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ یہ خلا دراصل محرک کا خلا ہے ۔ آپ ایک کارخانے کو صرف بجلی کا بٹن دبا کر حرکت میں لا سکتے ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ وہ اسی وقت کوئی کام کرتا ہے جب اس کے اپنے اندر اس کے کرنے کا جذبہ پیدا ہو چکا ہو۔ آج دنیا کے پاس زندگی گزارنے کے لئے بہتر ر تسم کے کاغذی نقشے ہیں اور اس کو عمل میں لانے کے لئے جدید ترین ساز و سامان موجود ہیں ۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لئے بے کار پڑا ہوا ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ آج مجرمین کو پکڑنے کی ٹکنیک اتنی ترقی کرگئی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ملک میں جرم کرکے دوسرے مقام پر بھاگ جانے کی کوشش کرے تو اس کے سرحد پار کرنے سے پہلے ریڈیو فوٹو کے ذریعہ ساری دنیا میں اس کا حلیہ نشر کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن پولیس کے افراد اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام نہیں دیتے ، اس لئے جرم کی روک تھام کے یہ سارے مواقع بیکار ثابت ہورہے ہیں۔ اقتصادیات اور اعداد و شمار کے ماہرین نہایت کامیاب طریقے پر کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ“ حاصل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں ۔ مگر عملہ کے اندر لوٹ کھسوٹ کی ذہنیت کی وجہ سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے وصول کی ہوئی رقم کم سے کم لوگوں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ حکومت کی تشکیل کے لئے نہایت وسیع قسم کے جمہوری طریقے دریافت کئے گئے ہیں۔ مگر لیڈروں اور سیاسی کارکنوں کے غلط استعمال کی وجہ سے جمہوریت عملاً ایک تماشا بن کر رہ گئی ہے۔

ابھی حال میں (اپریل ۱۹۶۰ء جنوبی کوریا کے الیکشن کے بعد اعلان کیا گیا کہ صدارت کے انتخاب میں ڈاکٹر سنگسن رہی کو ۹۰ فی صدی ووٹ ملے ہیں ۔ مگر اعلان کے بعد جب عوام نے بغاوت کر دی اور ڈاکٹر رہ ہی کو پناہ سن رن محل چھوڑ کر بھاگنا پڑا تو معلوم ہوا کہ "۹۰ فی صدی" کی حقیقت اعداد

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page