Al-Risala · December 1983 · page 33

دیوار کی ضرورت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳

کے نزدیک اچھے سماج کے لئے کیا کیا چیزیں ضروری ہیں۔ " وزیر اعظم نے جواب دیا۔ "میں کچھ معیاروں کا قائل ہوں، وہ ہر فرد اور ہر سماجی گروپ کے لئے ضروری ہیں اور اگر وہ معیار باقی نہ رہیں تو تمام مادی ترقی کے باوجود آپ کسی قابلِ قدر نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان معیاروں کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ ایک تو مذہبی طریقہ ہے۔ لیکن یہ اپنے تمام رسوم و تقریبات کے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا ہے۔ میں اخلاقی اور روحانی قدروں کو مذہب سے علیحدہ رکھ کر بڑی اہمیت دیتا ہوں۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ ان کو ماڈرن زندگی میں کس طرح قائم رکھا جا سکتا ہے۔ "

ان فقروں میں پنڈت نہرو نے اپنے طبقے کے لوگوں کی نہایت صحیح ترجمانی کی ہے۔ جو لوگ مذہب سے الگ رہ کر اخلاقی قدروں کو زندہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی مشترک خصوصیت یہ ہے کہ وہ سب کے سب بے یقینی میں مبتلا ہیں ۔ وہ خود اپنے مقدر کی کمزوری تسلیم کرتے ہیں ۔ وہ ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ انسانوں سے اسے کس طرح منوائیں ۔ انہیں اپنے خیالات کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی ۔

کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شخص کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو اس لئے کرتا ہے کہ اس میں اسے اپنی تمنائیں پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں وہ اس کو اپنی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اس میں اسے عزت اور دولت پانے کی توقع ہوتی ہے۔ پھر آخر کس لئے وہ اسے چھوڑ دے گا۔ کیا محض اس لئے کہ کچھ لوگ اسے اخلاق اور انسانیت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ کیا محض کسی کے ایڈیش کی خاطر کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ نفع کے بجائے نقصان کو اپنے لئے قبول کرلے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ انسانیت مانوتا) کے نام پر لوگوں کو اخلاقیات کا پابند بنانا چاہتے ہیں وہ ہوا میں عمارت کھڑی کر رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی عمارت کبھی وجود میں نہیں آسکتی ۔

ایک مثال لیجئے ۔ ہندوستانی ریلوں پر ہر ہیں مسافروں میں سے ایک آدمی بلینکٹ سفر کرتا ہے اور اس طرح مرکزی خزانے کو تقریباً پانچ کروڑ روپے سالانہ کا مسلسل نقصان ہورہا ہے۔ اس وبا کی روک تھام کے لئے ملک بھر میں بارہ ہزار سات سو اشخاص ملازم ہیں جن پر ہر سال دو کروڑ انیس لاکھ ر وپے صرف ہوتے ہیں۔ جب ہزاروں آدمیوں کا یہ عملہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page