عیسائیت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶
جس کا رخ ان اصولوں کی طرف ہو جس کو پہاڑی کے وعظ میں پیش کیا گیا تھا۔ جب اس قسم کی تبدیلی ایک خاص حد تک ہو چکی ہوگی، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اس نہج پر سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں با آسانی تبدیلی ہو سکے۔ لیکن اس تبدیلی کے بغیر کتنی ہی سیاسی اور اقتصادی بہتری اور میکانکی نوعیت کی تعمیر کیوں نہ کی جائے اس سے خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوں گے۔ “ ہندوازم اس قسم کے مذہبی لوگوں میں دوسرا قابل ذکر گروہ جدید ہندو مفکرین کا ہے۔ سی راجگو پال اچاریہ نے خاص اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دکھایا ہے کہ آج کی Hinduism: Doctrine and Way of Life دنیا کچھ روحانی تہذیبی بنیادوں کی طالب ہے اور وہ اخلاق اور کلچر جس کی جڑیں ویدانت میں اتری ہوئی ہیں، بلاشبہ اس ضرورت کو پوری کر سکتا ہے۔ صنعتی انقلاب نے جو مسائل پیدا کئے ہیں عمل اور اخلاقی قدروں کے درمیان آج جو علیحدگی نظر آتی ہے، سوسائٹی کے خود غرض عناصر جس طرح قانون کے ذریعہ استحصال کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاسی اور معاشی میدانوں میں اس کو ناجائز کامیابی کے لئے استعمال کرتے ہیں، متضاد مقاصد کے درمیان انسانی طاقت جس بری طرح ضائع ہو رہی ہے، ان تمام خرابیوں کا ذکر کرنے کے بعد وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دنیا کو ایک ایسا مذہب پیش کیا جا سکتا ہے جو سائنس کی مخالفت نہ ہو اور عملی زندگی اور ریاستی معاملات کو حق پرستی کی بنیاد پر تعمیر کر سکے ۔ اور اس کے بعد وہی کہتے ہیں کہ "Vedanta is the answer یعنی ویدانت اس سوال کا جواب ہے۔ " واضح لفظوں میں وہ لکھتے ہیں" دعویٰ یہ ہے کہ ایک اخلاقی کوڈ اور اقدار کا ایک نظام ہندو مفکرین نے مذہبی فلسفے سے لے پہاڑی کا وعظ حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک خاص تقریر ہے جو انجیل کی پہلی کتاب میں پانچویں چھیٹے اور ساتویں باب میں درج ہے۔ اس میں نہایت مؤثر انداز میں خدا پرستی اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے۔ راست بازی، رحم دلی، باہم صلح کرانا، صبر کرنا، حق کی روشنی پھیلانا، ناحق خون نہ کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، لوگوں کے حقوق ادا کرنا، عورت کی عصمت پر حملہ نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، زیادتی کا جواب نرمی سے دینا، ریا و نمائش سے بچنا، مال کی حرص نہ کرنا، اور عیب جوئی سے بچنا یہ اس کے چند خاص اجزا ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues