عیسائیت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۷
تیار کیا ہے جس کو ویدانت کہا جاتا ہے جو نہ صرف یہ کہ سائنس کے مطابق ہے بلکہ ایک بہتر اور مستحکم سماجی تنظیم کی نہایت عمدہ اور موزوں بنیاد بن سکتا ہے جس کی تمام دنیا کے بہترین لوگ تمنا رکھتے ہیں اور اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ ‘‘ ہندو ازم موجودہ ترقی یافتہ سماج کی ضرورتوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
بھاگود گیتا میں یہ بات نہایت واضح طریقے پر بیان کر دی گئی ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنا عمل سماجی ذمہ داریوں کو اپنی حیثیت کے مطابق انجام دے ، نہ کہ منافع کی غرض سے ، ہم کو اب سماجی اور اقتصادی مصلحین بتا رہے ہیں کہ اسٹیٹ اس بات کی نگرانی کرے گی کہ مرد اور عورت محض اپنے ذاتی مقاصد کے لئے کام نہ کریں۔ بلکہ اجتماعی مفاد کو بھی سامنے رکھیں۔ اور یہ بالکل وہی بات ہے جو بھاگود گیتا میں کہی گئی ہے ........ اس میں نہایت واضح طریقے پر بار بار بتایا گیا ہے کہ تمام کام دیانت داری اور بے غرضی کے ساتھ اجتماعی بہبود (لوک سنگرہ) کے لئے کیا جائے نہ کہ شخصی تمناؤں کی تسکین کے لئے ۔ در حقیقت گیتا نے تمام سوشلسٹ اصولوں کو نہایت عمدہ طریقے پر پیش کر دیا ہے۔ صفحات ۔ ۲۲ - ۲۳ دونوں مذاہب پر تبصرہ عیسائیت اور ہندو ازم کی طرف سے جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کو میں بالکل بے بنیاد نہیں کہتا۔ مگر یقینی طور پر میں اس کو نہایت ناقص حل سمجھتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ انجیل اور وید میں اخلاق کے اعلیٰ اصول لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ مگر انسان کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض اخلاقیات کی ایک فہرست نہیں ہے۔ اس قسم کی فہرست کا علم انسان کو بہت پہلے سے ہے اور اس سلسلے میں شاید ہم انسانی معلومات میں کوئی خاص اضافہ نہیں کر سکتے۔ آج انسان کو در اصل ایک ایسے محرک کی ضرورت ہے جو ان معلوم اخلاقیات پر عمل کرنے کے لئے ابھارتا ہو۔ وہ اس کے اندر ایسا مضبوط داعیہ پیدا کرے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے اس کو وہ کرنے لگے اور اس لحاظ سے دونوں مذاہب تقریباً خالی ہیں۔
مگر یہ خالی ہونا اس نوعیت کا نہیں ہے جیسا کہ اوپر ہم نے ”اخلاق کے نام پر اخلاق“ پیدا کرنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔ یہ مذاہب جس طرح اخلاق کے کچھ اصول بتاتے ہیں۔ اسی طرح ان کی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو ان پر عمل نہیں کریگا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues