عیسائیت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۸
وہ اس کے لازمی نتیجے کے طور پر ایک برے انجام سے دوچار ہوگا ۔ دونوں مذہبوں میں زندگی بعد موت کا تصور موجود ہے اور دونوں مرنے کے بعد کسی نہ کسی شکل میں اچھے یا برے انجام کی خبر دیتے ہیں یہی دراصل وہ چیز ہے جو آدمی کو بدعنوانیوں سے روکنے والی ہے۔ یہ تصور وہاں بھی آدمی کا ہاتھ پکڑلیتا ہے جہاں کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ اس طرح ان مذاہب میں وہ قدرِ بنیادی طور پر موجود ہے جس کو اوپر ہم نے محرک عمل کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت خود ان مذاہب کی تاریخ میں موجود ہے۔ سابق دور میں ان مذاہب کی بنیاد پر جو سوسائٹی بنی تھی وہ اخلاقی اعتبار سے صریح طور پر موجودہ مادہ پرست سوسائٹی سے بہتر تھی۔ مگر ان مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مذہب کو صحیح شکل میں محفوظ نہیں رکھا اور ان کی تعلیمات اب جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں وہ اس قدر ناقص اور الجھی ہوئی ہیں کہ کسی وسیع اور پائیدار اصلاح کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔ عیسائیت کا حال یہ ہے کہ جس انجیل میں پہاڑی کا وعظ ہے اسی میں مسیحی مذہب کا یہ عقیدہ بھی درج ہے کہ نجات کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانا کافی ہے ۔ اس نظرئے کے مطابق ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ہے۔ کیونکہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہوگئے ۔ اس لئے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور اس کو سولی پر چڑھاکر" اس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جس کو مان کر دوسرے لوگ اپنے گناہ بخشوالیں ۔ اب نجات کے لئے عمل کی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف ”خدا کے بیٹے کی اس حیثیت کو تسلیم کرنا کافی ہے ۔ کیونکہ " انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہرتا ہے ۔ " (نئے عہد نامے کی چھٹی کتاب باب ۳) ایسی حالت میں کوئی شخص آخر کس لئے عمل کے جھنجھٹ میں پڑے گا۔ کفارہ کا عقیدہ تسلیم کرنے کے بعد وہ کونسا محرک ہے جو آدمی کو نیکی کے لئے اٹھانے اور برائی سے روکنے پر مجبور کرے ۔ انجیل کا یہ تضاد ہمارے نزدیک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اصل تعلیم کا تضاد نہیں ہے۔ مگر آج عیسائیت کے نام سے جو چیز موجود ہے وہ قطعی طور پر یہی ہے۔ آں جناب نے تو مذہب کو اس کی صحیح ترین شکل میں پیش کیا تھا ۔ مگر آپ کے ماننے والے آپ کی تعلیمات کو محفوظ نہ رکھ سکے ۔ دوسروں کی تشریح و تعبیر میں شامل ہو کر اصل حقیقت گم ہوگئی ۔ انجیل کو دیکھئے تو ایک طرف اس میں بہترین مؤثر انداز میں آخرت کا ذکر اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues