Al-Risala · December 1983 · page 40

عیسائیت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۰

اگر اس کو اس عمل سے نہیں روکتا تو اگلے جنم میں کیڑا مکوڑا یا درخت بن جانے میں وہ کون سی ہولناکی ہے جو آدمی کو لرزادے اور اس کو جرم سے باز رکھے۔ اس نظریے کے مطابق وحشیانہ جرائم کی ایک بہت بڑی سزا جو منو سمرتی میں بتائی گئی ہے وہ یہ کہ ایسا آدمی دوسرے جنم میں چنڈال کے گھر میں پیدا ہوگا۔ چنڈال سے مراد پاسی، ملاح، دھوبی، ڈوم، چمار وغیرہ ہیں۔ ممکن ہے کہ کسی زمانے میں ان قوموں کی یہ حالت رہی ہو۔ مگر اب تو ان کا لقب ہریجن (خدا والے) ہے۔ ان کو وقت کے دستور میں دوسرے انسانوں کے برابر درجہ حاصل ہے۔ اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بنگلوں اور کاروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک اچھوت لیڈر اگر الیکشن میں جیت جائے تو وہ وزارت کا عہدہ حاصل کرکے برہمن آبادی کے اوپر حکومت کرتا ہے اور ان کے لئے قانون بناتا ہے۔ آخر اس طرح کے انجام میں وہ کون سا بھیانک پن ہے جو کسی کو جرم سے روکنے کا سبب بن سکے۔

اور بالفرض اگر اس سزا کی کوئی ایسی تعبیر کی جائے جس میں وہ بھیانک نظر آنے لگے تو اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ایسا خلا باقی رہتا ہے جو آدمی کے جذبات کو سرد کرنے کے لئے کافی ہے۔ اگر آپ ایک تباہ حال آدمی کو لیں اور اس سے پوچھیں کہ تم نے اپنے پچھلے جنم میں کیا کیا تھا جس کے نتیجے میں یہ انجام بھگت رہے ہو تو وہ کچھ نہ بتا سکے گا حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں آئے بھی تھے یا نہیں۔ پر جنم کے عقیدے کے مطابق انسان کو اس کے عمل کا بدلہ دینے کا معاملہ بالکل بے خبری میں انجام پاتا ہے اور یہ بے خبری پر جنم کی تمام شکلوں میں موجود ہوتی ہے۔ جن احساسات رکھنے والے ایک وجود نے اپنی زندگی میں ایک کام کیا تھا۔ اس کو جب اپنے اس عمل کا انجام ملتا ہے تو وہ اپنے پچھلے وجود کو بھول چکا ہوتا ہے۔ کیا ایسے ایک واقعہ کو سزا کہا جاسکتا ہے۔ یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے بے ہوشی کا انجکشن دے کر کسی کی چیر پھاڑ کی جائے۔ بلکہ زیادہ ٹھیک لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے آج کے عمل کا بدلہ کل دوسرے شخص کو ملے گا اور میری آج کی بداعمالیوں کی سزا کل کسی اور کو بھگتنی پڑے گی۔ مرنے کے بعد جب میں اپنے موجودہ شعور اور موجودہ احساسات کے ساتھ ختم ہو جاؤں گا تو اس کے بعد کی پیدائش کو میری پیدائش کیوں کہا جائے۔ پھر جس عمل کا انجام میرے بعد

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page