عیسائیت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۱
دوسرے انسان کو ملنے والا ہے اس لئے آخر میں کیوں کوشش کروں اور جس بدعملی کی سزا دوسرے وجود کو بھگتنی ہے اس سے میں کیوں ڈروں۔ پر جنم میں روح کے قالب بدلنے کو جس شکل میں پیش کیا گیا ہے ممکن ہے اس کو منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثوں کے ذریعہ ایک انسان کا مختلف جنم قرار دیا جاسکے مگر قطعی طور پر یہ ایک لفظی استدلال ہوگا ۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ بات بالکل ناقابل فہم ہے کہ اس طرح کے مختلف جنموں کو ایک انسان کا جنم کس بنا پر کہا جاتا ہے۔
اسی طرح اس نظریے کے اندر انسانی کامیابی کا جو تصور دیا گیا ہے، اس میں بھی ہمارے لئے کوئی کشش نہیں ہوسکتی۔ پر جنم کے مطابق انسان کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی روح مختلف قالبوں میں پیدا ہوکر ارتقاء کرتی رہے یہاں تک کہ بالآخر خدا یا پرما تما کے وجود میں گم ہو جائے جس کو نجات یا نروان کہا جاتا ہے ۔ یہاں مجھے اس نظریے کے علمی اور فلسفیانہ پہلوؤں سے بحث نہیں ہے ۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے ایک نظریے میں وہ کون سی کشش ہے جس کے لئے آدمی دنیا کے دکھ جھیلے اور زندگی بھر خواہ مخواہ ذمہ داریاں پوری کرنے اور حقوق ادا کرنے کا کھر اگ اپنے سر مول لے۔ اس کامیابی میں انسان کو کیا ملا ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ پر ماتما کی اپنی تکمیل کہا جاسکتا ہے نہ کہ کسی انسان کا ارتقاء ۔ پھر جس عمل کا فائدہ تمام تر دوسرے کو ملنے والا ہو اس میں آدمی کیوں محنت کرے ۔ ممکن ہے کچھ مخصوص قسم کے فلسفیانہ ذوق رکھنے والے لوگوں کو اس طرح کے نامعلوم ارتقاء سے دلچسپی ہو۔ مگر عام انسان جن جذبات اور جن تمناؤں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے اس میں کوئی کشش نہیں ہوسکتی اور صرف یہ واقعہ فلسفہ نروان کے خلاف فطرت اور خلاف واقعہ ہونے کا کافی ثبوت ہے۔ اسلام اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ اس کا جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل میں موجود ہیں جو ایسے ایک دھرم میں ہونا ضروری ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کی طرف سے میں کسی ایسی چیز کا انکشاف کرنے والا ہوں جس کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues