وحیدالدین
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۸
حقیقت کی تلاش
کائنات ایک بہت بڑی کتاب کی مانند ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے مگر یہ ایک انوکھی کتاب ہے جس کے کسی صفحے پر اس کا موضوع اور اس کے مصنف کا نام تحریر نہیں ، اگر چہ اس کتاب کا ایک ایک حرف بول رہا ہے کہ اس کا موضوع کیا ہو سکتا ہے اور اس کا مصنف کون ہے ۔ جب کوئی شخص آنکھ کھولتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ ایک وسیع وعریض کائنات کے درمیان کھڑا ہے تو بالکل قدرتی طور پر اس کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ " میں کیا ہوں اور یہ کائنات کیا ہے " وہ اپنے آپ کو اور کائنات کو سمجھنے کے لئے بے چین ہوتا ہے۔ اپنی فطرت میں سموئے ہوئے اشارات کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا میں وہ جن حالات سے دوچار ہو رہا ہے ، چاہتا ہے کہ ان کے حقیقی اسباب معلوم کرے۔ غرض اس کے ذہن میں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں جن کا جواب معلوم کرنے کے لئے وہ بے قرار ہوتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ ان کا جواب کیا ہے۔ یہ سوالات محض فلسفیانہ قسم کے سوالات نہیں ہیں بلکہ یہ انسان کی فطرت اور اس کے حالات کا قدرتی نتیجہ ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن سے دنیا میں تقریباً ہر شخص کو ایک بار گزرنا ہوتا ہے ۔ جن کا جواب نہ پانے کی صورت میں کوئی پاگل ہو جاتا ہے ، کوئی خودکشی کر لیتا ہے ، کسی کی ساری زندگی بے چینیوں میں گزر جاتی ہے ، اور کوئی اپنے حقیقی سوال کا جواب نہ پاکر نشہ آور چیزوں یا ظاہر فریب تماشوں میں کھو جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان میں گم ہو کر اس ذہنی پریشانی سے نجات حاصل کر لے وہ جو کچھ حاصل کر سکتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں اس کو بھلا دیتا ہے جس کو وہ حاصل نہ کر سکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues