Al-Risala · February 1983 · page 9

خالق کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۹

اس سوال کو ہم ایک لفظ میں ”حقیقت کی تلاش“ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کا تجزیہ کریں تو یہ بہت سے سوالات کا مجموعہ نکلے گا۔ یہ سوالات کیا ہیں ان کو مختلف الفاظ میں ظاہر کیا جا سکتا ہے مگر میں آسانی کے لئے ان کو مندرجہ ذیل تین عنوانات کے تحت بیان کروں گا۔

1- خالق کی تلاش ۲۔ معبود کی تلاش ۳۔ اپنے انجام کی تلاش حقیقت کی تلاش دراصل نام ہے ان ہی تینوں سوالات کا جواب معلوم کرنے کا۔ آپ خواہ جن الفاظ میں بھی اس سوال کی تشریح کریں مگر حقیقتاً وہ اسی کی بدلی ہوئی تعبیر ہوگی اور ان ہی تین عنوانات کے تحت انھیں اکٹھا کیا جا سکے گا۔

بظاہر یہ سوالات ایسے ہیں جن کے بارہ میں ہم کچھ نہیں جانتے، اور نہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایسا کوئی بورڈ لگا ہوا نظر آتا ہے جہاں ان کا جواب لکھ کر رکھ دیا گیا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو سوال ہے اسی کے اندر اس کا جواب موجود ہے۔ کائنات اپنی حقیقت کی طرف آپ اشارہ کرتی ہے؛ اگرچہ وہ ہم کو یقینی علم تک نہیں لے جاتی۔ لیکن یہ اشارہ اتنا واضح اور قطعی ہے کہ اگر ہم کو کسی ذریعہ سے حقیقت کا علم حاصل ہو جائے تو ہمارا ذہن پکار اٹھتا ہے کہ یقیناً یہی حقیقت ہے، اس کے سوا کائنات کی کوئی اور حقیقت نہیں ہو سکتی۔

خالق کی تلاش

کائنات کو دیکھتے ہی جو سب سے پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے جو اس عظیم کارخانے کو چلا رہا ہے ۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی ان دیکھی طاقتیں اس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کر رہے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طور پر اب یہ نظریہ ترک کیا جا چکا ہے۔ آج یہ ایک مردہ نظریہ ہے نہ کہ زندہ نظریہ۔ موجودہ زمانہ کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے انسان ہیں۔ وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کارفرمائی نہیں ہے بلکہ ایک اتفاقی حادثہ کا نتیجہ ہے اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجائے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page