Al-Risala · December 1983 · page 44

عیسائیت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۴

دوسری دنیا کے بارے میں اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ وہاں جنت اور جہنم ہے ۔ جنت انتہائی عیش کی جگہ ہے اور جہنم بدترین عذاب کا مقام ۔ وہ تمام لذیذ اور بہترین چیزیں جن کی انسان تمنا کرسکتا ہے اسلام ایک ایک کا نام لے کر بتاتا ہے کہ وہ نہایت اعلی شکل میں جنت میں موجود ہوں گی ۔ اور سخت ترین عذاب کی تمام صورتیں جن سے انسان آشنا ہے ، ان کے متعلق بتاتا ہے کہ وہ جہنم میں جانے والے شخص کو بھگتنا پڑیں گی ۔ ہر وہ انسان جو پیدا ہوا ہے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان میں سے کسی ایک میں رہنا ہے۔ یہ چیز آدمی کو بے قرار کردیتی ہے اور وہ اپنے ایک ایک لمحے کو فضولیات سے بچا کر صحیح ترین کام میں لگانا شروع کردیتا ہے۔ پھر اسلام یہ بتاتا ہے کہ جس خدا کی عدالت میں تمہارا معاملہ جانے والا ہے اس پر نہ کسی کا زور ہے اور نہ کوئی سفارش وہاں سنی جانے والی ہے ۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حضور اپنی زبان کھول سکے ۔ یہ چیز اس کو بتاتی ہے کہ جھوٹے سہاروں پر تکیہ کرنا چھوڑ دے ۔ اور صرف خدا سے اپنا تمام تعلق قائم کرے۔ پھر یہ کہ یہ سب کچھ اس طرح پیش آئے گا کہ ہم اپنے موجودہ احساسات کے ساتھ اپنی زندگی کا شعور رکھتے ہوں گے ۔ اپنی پچھلی زندگی ہر شخص کو اچھی طرح یاد ہوگی بلکہ اس کے سامنے ہوگی ۔ موت اس کے لئے محض نیند کی طرح کا ایک درمیانی وقفہ ہوگا اور وہ دوسری زندگی کو اسی طرح اپنی زندگی سمجھے گا جس طرح سو کر اٹھنے والا کوئی شخص سمجھتا ہے ۔ ہر آدمی دوسرے کو اسی طرح پہچانے گا جس طرح وہ آج پہچانتا ہے ۔ غرض آج ہمارا جو وجود ہے ، اسی وجود کے ساتھ ہم اپنی جزا یا سزا پائیں گے ۔

اس طرح اسلام کا آخرت کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو آدمی کو ہلا دینے کے لئے کافی ہے ۔ اس نظریے میں اس بات کی مکمل صلاحیت ہے کہ وہ سماج کی ضرورت کے مطابق نہایت فرض شناس اور دیانت دار شہری پیدا کرے اگر اس نظریے کو کسی آبادی میں وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے اور لوگوں کے ذہنوں میں اس کو اچھی طرح بٹھا دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ حساس اور ذمے دار بن جائیں گے ۔ جب ایک شخص کو منتخب کر کے کسی کام پر لگا دیا جائے گا تو وہ اس احساس کے تحت اپنی ڈیوٹی کو ٹھیک ٹھیک انجام دے گا کہ اس کا جواب اسے مالک کائنات کو دینا ہے جو اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page