Al-Risala · December 1983 · page 45

غلط فہمی کا ازالہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵

کی تمام سرگرمیوں سے باخبر ہے، جس کی نگاہ سے اس کا کوئی چھوٹا یا بڑا کارنامہ چھپ نہیں سکتا۔

مدینے کے ایک باشندے ابو مسعود انصاری کا واقعہ ہے، وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے، اتنے میں انہوں نے پیچھے سے ایک آواز سنی ـــــــــــ اعلم ابا مسعود للہ اقدر عليك منك (ابو مسعود! یاد رکھو اس غلام کے اوپر تم کو جتنا اختیار ہے تمہارا خدا اس سے زیادہ تمہارے اوپر اختیار رکھتا ہے) دیکھ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ یہ فقرہ سنتے ہی ان کا حال بدل گیا۔ انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ روک لیا اور بولے کہ اے خدا کے رسول! میں اس غلام کو خدا کی راہ میں آزاد کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہیں پکڑ لیتی۔ (مسلم) اس طرح اسلام ایک ایسا نظریہ عطا کرتا ہے جس کے ذریعہ آپ کسی بھی شخص کو کسی بھی مقام پر ٹوک سکتے ہیں اور وہ خود اپنے فائدے کی خاطر مجبور ہوگا کہ اس کی تنبیہ پر غور کرے ۔ جبکہ موجودہ نظام میں کسی کو بد عنوانی سے روکنے کے لئے صرف پولیس کے دفتر میں اس کی رپورٹ درج کرائی جاسکتی ہے ، ایک ایسا دفتر جو رشوت لے کر اپنا ریکارڈ جلا سکتا ہے۔ اور اگر عدالت میں بھی جانا ہوا تو ملزم کو خوب معلوم ہے کہ ایک قابل وکیل کو فیس ادا کرنے کی صلاحیت ہونا کسی بھی مقدمے کو جیتنے کی کافی ضمانت ہے۔

غلط فہمی کا ازالہ

اوپر کی سطروں میں میں نے اسلام کے تصور زندگی کو اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ آج ہم جن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، ان کو وہ کس طرح حل کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی اس کی کل حیثیت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کوئی فرضی نظریہ نہیں ہے جو مسائل پیش آنے کے بعد ضرورت کے طور پر گھڑ لیا گیا ہو۔ حل مسائل کی غرض سے ہم دنیا کو کوئی فلسفیانہ فریب نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سوال کہ "زندگی کے مسائل کا حل کیا ہے"۔ یہ بذات خود کوئی الگ سوال نہیں۔ بلکہ وہ اس برے سوال کا جزو ہے کہ "زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے"۔ حقیقت سے مطابق ہونے ہی کا دوسرا نام مسائل کا حل ہونا ہے۔ جس نظام فکر کو اپنانے سے زندگی کے مسائل حل ہوجائیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہی نظام فکر کائنات کی اصل حقیقت ہے اور کسی نظام فکر کا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page