Al-Risala · December 1983 · page 46

غلط فہمی کا ازالہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۶

اصل حقیقت ہونا خود بخود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس سے انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ خاتمہ اس وقت میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا مقصد ذہنی طور پر آپ کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں سے آپ اپنی منزل کو دیکھ سکیں ۔ اور ان سوالات کا جواب پالیں جو آپ کو اور ساری انسانیت کو گھیرے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے لئے کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کو میری بات لازماً صحیح نظر آنی چاہئے۔ میں آپ کو اختلاف کا حق دیتا ہوں۔ مگر یاد رکھئے کہ جب کسی معاملے میں آدمی کو اپنی رائے مختلف نظر آتی ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ اس کی حقیقی رائے ہو۔ اکثر رائیں محض آدمی کے موروثی جذبات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ آدمی کہتا ہے کہ ”میرا خیال یہ ہے“ حالانکہ وہ دراصل ماحول کا خیال ہوتا ہے جس کو وہ اپنا سمجھ کر دہراد یتا ہے۔ عقیدے، رائیں، اورتعلقات بیشتر حالات میں تاریخ اور ماحول کے اثر سے بنتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جنہوں نے فی الواقع اپنے خاندان اور اپنے گردو پیش سے اوپر اٹھ کر خالص عقلی غور و فکر کے نتیجے میں کوئی عقیدہ اپنایا ہو، کوئی رائے قائم کی ہو یا کسی سے اپنے تعلقات جوڑے ہوں۔ اس لئے آج آپ جس عقیدے کو اپنا عقیدہ اور جس طریق زندگی کو اپنا طریق زندگی کہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ واقعہ بھی ایسا ہی ہو۔ بہت ممکن ہے کہ ایک مخصوص خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے یہ چیزیں آپ کے ساتھ چمٹ گئی ہوں۔ میں آپ کو یہی معلوم کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ آپ سوچئے کہ آپ نے جس عقیدے کو اپنا رکھا ہے وہ فی الواقع آپ کی سوچی سمجھی راہ ہے یا محض باپ دادا کی پیروی میں آپ بے سوچے سمجھے اس پر چلے جا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ ان دونوں کے فرق کو سامنے رکھیں گے اور وراٹھی جذبات اور ماحول کے تاثرات سے الگ ہو کر اپنی راہ ڈھونڈھنے کی کوشش کریں گے تو لازماً میری تائید کریں گے اور اس وقت آپ کو صاف نظر آئے گا کہ حقیقتہ الانسان کی منزل کس طرف ہے۔

نوٹ : یہ مقالہ آریہ سماج الہ آباد) کے ایک جلسہ میں پیش کیا گیا جو سرو دھر سمین کے عنوان سے ۲۲ مئی ۱۹۶۰ کو ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page