ڈر کی طاقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۵
ڈر کی طاقت
حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص تھا جس کا نام صبیغ تھا۔ وہ عراق میں گھوم گھوم کر سورہ ذاریات کے بارے میں تقریریں کرتا اور اس سورہ کے مضامین میں عجیب عجیب قسم کے سوالات پیدا کر کے مسلمانوں کو شکوک وشبہات میں مبتلا کرتا۔
اس آدمی کو لوگوں نے سمجھایا، مگر وہ نہ مانا اس نے اپنی تقریریں جاری رکھیں۔ آخر کار عراق کے حاکم نے اس کو گرفتار کیا اور اپنے ایک قاصد کے ذریعہ اس کو خلیفہ ثانی کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا اور لکھا کہ یہ شخص قرآن کی سورہ ذاریات کے بارے میں عجیب وغریب باتیں نکال کر مسلمانوں کو شک وشبہ میں مبتلا کرتا ہے اور ان کے عقائد کو بگاڑ رہا ہے۔
حضرت عمر نے خط کو پڑھا۔ اس کے بعد مجرم سے باتیں کیں۔ اس کو سمجھایا۔ مگر وہ شخص نہ مانا اور اپنی باتوں کو دہراتا رہا۔ اس کے بعد حضرت عمر نے درہ منگوایا اور اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ یہ نوبت آئی کہ وہ شخص خون میں نہا اٹھا اور مار اس کے لئے ناقابل برداشت ہوگئی۔ اب اس نے سپر ڈال دی۔ اور چلا کر کہا:
قد ذھب الذی کنت اجدہ فی رأسی وہ چیز چلی گئی جس کو میں اپنے سر میں پا رہا تھا (الاصابہ لابن حجر)
اس کے بعد حضرت عمر نے اس کو چھوڑ دیا۔ اپنی بقیہ عمر اس نے اس طرح گزاری کہ مذکورہ قسم کی باتیں دوبارہ اس سے نہیں سنی گئیں۔ دلیل کی زبان اس کے لئے بے اثر ثابت ہوئی تھی، مگر کوڑے کی زبان اس کے لئے اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ وہ ہمیشہ کے لئے اصلاح یافتہ ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت سی خرابیاں صرف بے خوفی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر آدمی کو سزا کا ڈر ہو تو وہ خود بخود درست ہو جائے۔ ڈر آدمی کو سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ اور جو شخص کسی معاملہ میں سنجیدہ ہو وہ کبھی بے معنی کلام اپنی زبان سے نہیں نکالے گا، وہ الٹی حرکتیں نہیں کرے گا۔ ڈر بظاہر ایک چیز ہے۔ مگر وہ آدمی کی تمام خرابیوں کی اصلاح کر دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues