Al-Risala · January 1983 · page 6

بے معنی مسائل

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۶

بے معنی مسائل

حدیث میں آیا ہے : ان النبی صلی اللہ علبے وسلم نهی عن الا غلوطات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اغلوطات سے منع کیا ہے۔ اغلوطات سے مراد وہ مسائل ہیں جو واقع ہونے سے پہلے فرضی طور پر قائم کئے جاتے ہیں (ھی المسائل التي لم تقع)

دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ہے:

ان اللہ كره لكم قيل وقال وكثرة السؤال اللہ نے تمہارے لئے قیل و قال کو اور کثرت سوال کو اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے۔

یہ تعلیم بے حد حکمت پر مبنی ہے۔ اگر لوگوں کے اندر یہ مزاج باقی نہ رہے تو وہ ہر بات کو بحث کا موضوع بنائیں گے، ہر چیز کو منطق کے پیمانہ سے ناپیں گے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ دین کا اصل سراچھوٹ جائے گا اور یہ معنی مسائل پر لفظی بحث کے سوا ان کے پاس اور کچھ باقی نہ رہے گا۔ خدا کا سادہ دین انسانی اضافوں کے بعد مشکل اور پیچیدہ دین ہو کر رہ جائے گا۔

ایک مثال لیجئے۔

ایک مرتبہ کسی نے ایک آدمی سے پوچھا کیا تم مسلمان ہو۔ اس کی زبان سے نکلا : انا مومن انشاء اللہ (خدا نے چاہا تو میں مومن ہوں)، یہ بات بحث کی نہ تھی۔ مگر ماہرین فقہ نے غیر ضروری طور پر اس کو بحث کا موضوع بنایا۔ اب ان کے درمیان یہ بحث چل پڑی کہ اس قسم کا جواب دینا جائز ہے یا نا جائز ۔ ایک گروہ نے کہا کہ جائز ہے۔ کیونکہ کسی کا مومن ہونا یا نہ ہونا خدا کی مشیت ہی پر ہے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ ناجائز ہے۔ کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے ایمان میں شک ہے۔

شافعی مسلک کے لوگ اس کے قائل تھے کہ انا مومن انشاء اللہ کہنا جائز ہے۔ اس کے برعکس حنفی مسلک کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسا کہنا جائز نہیں۔ جب یہ بحث بڑھی تو یہ سوال پیدا ہوگیا کہ ایسے لوگوں کے درمیان نکاح درست ہوگا یا نہیں۔ ایک گروہ نے کہا کہ حنفی عورت کا نکاح شافعی مرد کے ساتھ جائز نہیں۔ کیونکہ اس کو اس کے ایمان پر شک ہے (لا یصح لانھا تشك في ایمانھا) دوسروں کا فتویٰ یہ تھا ذمی عورت پر قیاس کرتے ہوئے نکاح درست ہوگا (يصح قياساً على الذمية)

اس سے اندازہ کیجئے کہ غیر ضروری بحثوں میں پڑنے کے بعد صراط مستقیم کا سرا کس طرح چھوٹ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page