خالق کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰
تو اس کے سبب سے کچھ ۲۰سرے واقعات بھی وجود میں آئیں گے۔ اس طرح اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے اور یہی سلسلہ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک اتفاق، اور دوسرے قانون علت (Law of Causation)
یہ توجیہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریباً دو لاکھ ارب سال، دو نیل سال، پہلے کائنات کا وجود نہ تھا۔ اس وقت ستارے تھے اور نہ سیارے، مگر فضا میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا، بلکہ اپنے ابتدائی ذرے یعنی برقیے اور پروٹونوں کی شکل میں پوری فضا میں بسط میں یکساں طور پر پھیلا ہوا تھا۔ گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس نے کائنات بھری ہوئی تھی۔ اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔ ریاضی کے نقطہ گاہ سے یہ تو ازن ایسا تھا کہ اگر اس میں کوئی ذرا سا بھی خلل ڈال دے تو پھر یہ قائم نہیں رہ سکتا، یہ خلل بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اگر اس ابتدائی خلل کو مان لیجئے تو ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد کے تمام واقعات علم ریاضی کے ذریعہ ثابت ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مادے کے اس بادل میں خفیف سا خلل واقع ہوا جیسے کسی حوض کے پانی کو کوئی ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ کائنات کی پر سکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا ، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم لیکن خلل ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارے اور سحابئے کہتے ہیں۔
کائنات کی یہ توجیہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اس قدر بودی اور کمزور توجیہہ ہے کہ خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرح صدر حاصل نہ ہو سکا۔ یہ توجیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی مگر اس کے باوجود اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے کائنات کے محرک اول کو معلوم کر لیا ہے، اور اس محرک اول کا نام اس کے نزدیک اتفاق ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب و غریب قسم کا اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی۔ جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے اور نہ مادہ کے باہر۔ وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے ۔ اس توجیہہ کا یہ نہایت دل چسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعہ سے پہلے ایک واقعہ کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعہ کا سبب بن سکے مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے واقعہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues