خالق کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے اختیار انسانی پر یقین کرنا محال بنا دیا، کیوں کہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔ اس طرز فکر کے نتیجہ میں ستر ھویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے جب یہ دریافت ہوا کہ (Living Cell) جاندار خلیہ بھی بے جان مادہ کی طرح محض کیمیاوی جوہروں سے بنا ہے تو فوراً سوال پیدا ہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم ودماغ بنے ہوئے ہیں کیوں کر اصول تعلیل کے دائرہ سے باہر ہو سکتے ہیں چنانچہ گمان کیا گیا بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعویٰ کر دیا گیا کہ زندگی بھی ایک خالص مشین ہے یہاں تک کہا گیا کہ نیوٹن، باخ (Bach) اور مائیکل اینجلو (Michel Angelo) کے دماغ کسی پرنٹنگ مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل جواب دیں۔
مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصول علیت کی اب قائل ہمیں ہے۔ نظریہ اضافیت اصول تعلیل کو دھوکے (Elusion) کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوت کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جا سکتی ہے جو نیوٹن کے افکار، باخ کے جذبات اور مائیکل اینجلو کے خیالات کا اعادہ کر سکے مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ شمع کی روشنی اور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں دہرا سکتی۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے جو ازل روز سے علت اور معلول کی مسلسل کڑی کے مطابق ابد تک کے لئے معین ہو چکا ہے۔ مگر بالآخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طور پر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریت کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا نہیں ایک غیر میکانکی حقیقت (Non-mechanical Reality) کی طرف لے جا رہا ہے۔
کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارہ میں یہ دونوں نظریے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات ان کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی بلکہ اور کمزور کر دیتی ہے۔ اس طرح گویا سائنس خود ہی اس نظریہ کی تردید کر رہی ہے، اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues