Al-Risala · February 1983 · page 14

معبود کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴

نیا سفر شروع کیا تھا۔

معبود کی تلاش

یہ خالق کی تلاش کا مسئلہ تھا۔ اس کے بعد دوسری چیز جو انسان جاننا چاہتا ہے وہ یہ کہ "میرا معبود کون ہے "ہم اپنی زندگی میں صریح طور پر ایک خلا محسوس کرتے ہیں مگر ہم نہیں جانتے کہ اس خلا کو کیسے پر کریں۔ یہی خلا کا احساس ہے جس کو میں نے "معبود کی تلاش" سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔

اپنے وجود اور باہر کی دنیا پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو نہایت شدید جذبے ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا شکر اور احسان مندی کا اور دوسرا کمزوری اور عجز کا۔

ہم اپنی زندگی کے جس گوشہ میں بھی نظر ڈالتے ہیں ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی کے احسانات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر دینے والے کے لئے ہمارے اندر بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بہترین عقیدتوں کو اپنے محسن پر قربان کر سکیں۔ یہ تلاش ہمارے لئے محض ایک فلسفیانہ نوعیت کی چیز نہیں ہے بلکہ ہماری نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے یہ سوال محض ایک خارجی مسئلہ کو حل کرنے کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ایک اندرونی طلب ہے اور ہمارا پورا وجود اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔

غور کیجئے، کیا کوئی شریف آدمی اس حقیقت کو نظر انداز کر سکتا ہے کہ وہ کائنات میں ایک مستقل واقعہ کی حیثیت سے موجود ہے حالانکہ اس میں اس کی اپنی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے وہ اپنے آپ کو ایک ایسے جسم میں پارہا ہے جس سے بہتر جسم کا وہ تصور نہیں کر سکتا حالانکہ اس جسم کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ اس کو ایسی عجیب و غریب قسم کی ذہنی قوتیں حاصل ہیں جو کسی بھی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئی ہیں حالانکہ ان قوتوں کو حاصل کرنے کے لئے اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے اور نہ وہ کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارا وجود ذاتی نہیں ہے بلکہ عطیہ ہے۔ یہ عطیہ کس نے دیا ہے، انسانی فطرت اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ اپنے اس عظیم محسن کا شکر ادا کر سکے۔

پھر اپنے جسم کے باہر دیکھتے۔ دنیا میں ہم اس حال میں پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا، نہ ہم کو کائنات کے اوپر کوئی اختیار حاصل ہے کہ ہم اس کو اپنی ضرورت

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page