Al-Risala · February 1983 · page 16

معبود کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۶

آلات نشر آواز کے پہنچتے ہی مرتعش ہو کر فضا میں وہی ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں۔ اس طرح پانچ سیکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سیکنڈ میں دولاکھ میل کی رفتار حاصل کرلیتی ہے ۔ اور دم بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے ۔ یہی لاسلکی موجیں ہیں جن کو ہمارے ریڈیو سٹ کی آواز گیر مشین قبول کر کے بلند آواز میں ان کا اعادہ کر دیتی ہے اور پھر ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔

یہ ان بیشمار انتظامات میں سے ایک ہے جس کو میں نے بیان نہیں کیا ہے بلکہ اس کا صرف نام لیا ہے۔ اگر اس کا اور دوسری چیزوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس کے لئے کروڑوں صفحے درکار ہوں گے اور پھر بھی ان کا بیان ختم نہ ہوگا ۔

یہ عطیات جن سے ہر آن آدمی دوچار ہو رہا ہے اور جن کے بغیر اس زمین پر انسانی زندگی اور تمدن کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا، انسان جاننا چاہتا ہے کہ یہ سب کس نے اس کے لئے مہیا کیا ہے ہر آن جب وہ کسی نعمت سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو پائے اور اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دے۔ محسن کے احسانات کو ماننا، اس کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا اور اس کی خدمت میں اپنے بہترین جذبات کو نذر کرنا یہ انسانی فطرت کا شریف ترین جذبہ ہے۔ ہر آدمی جو اپنی زندگی اور کائنات پر غور کرتا ہے اس کے اندر نہایت شدت سے یہ جذبہ ابھرتا ہے۔ پھر کیا اس جذبہ کا کوئی جواب نہیں۔ کیا انسان اس کائنات کے اندر ایک یتیم بچہ ہے جس کے اندر امنڈتے ہوئے جذبات محبت کی تسکین کے لئے کوئی ہستی موجود نہ ہو۔ کیا یہ ایک ایسی کائنات ہے جہاں احسانات ہیں مگر محسن کا پتہ نہیں جہاں جذبہ ہے مگر جذبہ کی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔

یہ معبود کی تلاش کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے حالات فطری طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ کائنات کے اندر اس کا کوئی سہارا ہو۔ اگر ہم آنکھ کھول کر دیکھیں تو ہم اس دنیا میں ایک انتہائی عاجز اور بے بس مخلوق ہیں۔ ذرا اس خلا کا تصور کیجئے جس میں ہماری یہ زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کی گولائی تقریباً ۲۵ ہزار میل ہے۔ اور وہ ناچتے ہوئے لٹو کے مانند اپنے محور پر مسلسل اس طرح گھوم رہی ہے کہ ہر ۲۴ گھنٹے میں ایک چکر پورا ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ سورج کے چاروں طرف اٹھارہ کروڑ ساٹھ لاکھ میل کے لمبے دائرہ میں نہایت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page