معبود کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۵
کے مطابق ب سکیں ۔ ہماری ہزاروں ضرورتیں ہیں ۔ مگر کسی ایک ضرورت کو بھی ہم خود سے پورا نہیں کر سکتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اپنے تمام ساز وسامان کے ساتھ اس بات کی منتظر ہے کہ انسان پیدا ہو اور وہ اس کی خدمت میں لگ جائے ۔
مثال کے طور پر آواز کو لیجیے جس کے ذریعہ سے ہم اپنا خیال دوسروں تک پہنچاتے ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات زبان کا ارتعاش بن کر دوسرے کے کان تک پہنچیں اور وہ ان کو قابل فہم آوازوں کی صورت میں سن سکے ۔ اس کے لئے ہمارے اندر اور باہر بیشمار انتظامات کئے گئے ہیں جن میں سے ایک وہ درمیانی واسطہ ہے جس کو ہم ہوا کہتے ہیں ۔ ہم جو الفاظ بولتے ہیں وہ بے آواز لہروں کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ میرے منھ سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہو نچنے کے لئے درمیان میں ہوا کا موجود ہونا ضروری ہے ۔ اگر یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو آپ میرے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے مگر میری آواز نہ سنیں گے ۔ مثال کے طور پر ایک بند فانوس کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائے تو اس کی آواز صاف سنائی دے گی ۔ لیکن اگر فانوس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا جائے اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھیں گے مگر اس کی آواز بالکل سنائی نہ دے گی ۔ کیوں کہ گھنٹی کے بجنے سے جو ارتعاش پیدا ہوتا ہے اس کو قبول کر کے آپ کے کانوں تک پہو نچانے کے لئے فانوس کے اندر ہوا موجود نہیں ہے ۔
مگر یہ ذریعہ بھی ناکافی ہے کیونکہ ہوا کے ذریعہ ہماری آواز پانچ سیکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طے کرتی ہے ۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لئے کارآمد ہے، وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا ۔ اگر آواز صرف ہوا کے ذریعہ پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا نا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لئے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے ، یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے ۔ لاسلکی پیغامات میں اسی ذریعہ سے کام لیا جاتا ہے ۔ جب کوئی مقرر ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائیکروفون کے قریب آواز نکالتا ہے تو مائکرو فون آواز کو جذب کر کے اسے برقی رو میں تبدیل کر دیتا ہے اور تار کے ذریعہ اس کو آلۂ نشر یا ٹرانس میٹر تک بھیج دیتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues