Al-Risala · February 1983 · page 18

معبود کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸

اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور اس کو وسیع ترین فضا میں گر کر برباد ہو جانے سے روکتا ہے، مایہ عبرت کی طاقت اس قدر قوی ہے کہ اگر اس مقصد کے لئے کسی مادی شے سے زمین کو باندھنا پڑتا تو جس طرح گھاس کی پتیاں زمین کو ڈھانکے ہوئے ہیں، اسی طرح دھاتی تاروں سے کرۂ ارض ڈھک جاتا۔

ہماری زندگی بالکلیہ ایسی طاقتوں کے رحم وکرم پر ہے جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ انسان کی زندگی کے لئے دنیا میں جو انتظامات ہیں اور جن کی موجودگی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا، وہ اتنے بلند پیمانہ پرموجود ہیں اور ان کو وجود میں لانے کے لئے اتنی غیر معمولی قوت تصرف درکار ہے کہ انسان خود سے انھیں وجود میں لانے کا تصور نہیں کر سکتا موجودات کے لئے جو طریق عمل مقرر کیا گیا ہے، اس کا مقرر کرنا تو درکنار اس پر کنٹرول کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ اگر کائنات کی غیر معمولی قوتیں میرے ساتھ ہم آہنگی نہ کریں تو میں زمین پر ٹھہر بھی نہیں سکتا، اس کے اوپر ایک متمدن زندگی کی تعمیر تو بہت دور کی بات ہے۔

ایسی ایک کائنات کے اندر جب انسان اپنے حقیر وجود کو دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرنے لگتا ہے جتنا کہ سمندر کی موجوں کے درمیان ایک چیونٹی اپنے آپ کو بچانے کی جدوجہد کر رہی ہو۔ وہ بے اختیار چاہتا ہے کہ کوئی ہو جو اس اتھاہ کائنات میں اس کا سہارا بن سکے۔ وہ ایک ایسی ہستی کی پناہ ڈھونڈھنا چاہتا ہے جو کائنات کی قوتوں سے بالاتر ہو اور جس کی پناہ میں آ جانے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ و مامون تصور کر سکے۔

یہ دو جذبے ہیں جن کو میں نے معبود کی تلاش کا عنوان دیا ہے۔ معبود کی تلاش در اصل ایک فطری جذبہ ہے جس کا مطلب ایک ایسی ہستی کی تلاش ہے جو آدمی کی محبت اور اس کے اعتماد کا مرکز بن سکے۔ موجودہ زمانہ میں قوم، وطن اور ریاست کو انسان کی اس طلب کا جواب بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جدید تہذیب یہ کہتی ہے کہ اپنی قوم، اپنے وطن اور اپنی ریاست کو یہ مقام دو کہ وہ تمہاری عقیدتوں کا مرکز بنے اور اس سے وابستگی کو اپنا سہارا بناؤ۔ ان چیزوں کو معبود کے نام پر پیش نہیں کیا جاتا مگر زندگی میں ان کو جو مقام دیا گیا ہے وہ تقریباً وہی ہے جو دراصل ایک معبود کا ہونا چاہیے۔ مگر ان چیزوں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page