معبود کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۹
کو معبود کی جگہ دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کو ایک رفیق زندگی کی ضرورت ہو تو اس کی خدمت میں آپ پتھر کی ایک سل پیش کر دیں۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش میں ہے جو ساری کائنات پر محیط ہو۔ اس طلب کا جواب کسی جغرافیائی خط میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں زیادہ سے زیادہ ایک سماج کی تعمیر میں کچھ مدد دے سکتی ہیں مگر وہ انسان کے تلاش معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں، اس کے لئے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لئے ایک ایسا وجود چاہئے جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہو، اپنے سہارے کے لئے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے جو کائنات کے اوپر حکمراں ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا اس کا خلا بدستور باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پر کرنے والی نہیں بن سکتی انجام کی تلاش حقیقت کی تلاش کا تیسرا جز مہ اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ محدود زندگی کے مقابلہ میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات ہیں جو دنیا میں بری طرح پامال کئے جا رہے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کر سکے گا۔ یہ سوالات کس طرح انسان کے اندر سے ابلتے ہیں اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتا ہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔
ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے یعنی دو لاکھ ارب سال (۲۰ نیل سال) اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی، پھر اس میں حرکت ہوئی اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارےیا سحابئے کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues