معبود کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰
مہیب گولے کی شکل میں نامعلوم مدت تک فضا میں گردش کرتے رہے۔ تقریبا دو ارب سال پہلے ایسا ہوا کہ کائنات کا کوئی بڑا ستارہ فضا میں سفر کرتا ہوا آفتاب کے قریب آنکلا جو اس وقت اب سے بہت بڑا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سے سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح اس دوسرے ستارے کی کشش سے ہمارے آفتاب پر ایک عظیم طوفان برپا ہوا،زبردست زبردست لہریں پیدا ہوئیں جو رفتہ رفتہ نہایت بلند ہوئیں اور قبل اس کے کہ وہ ستارہ آفتاب سے دور ہٹنا شروع ہو، اس کی قوت کشش اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ آفتاب کی ان زبردست گیسی لہروں کے کچھ حصے ٹوٹ کر ایک جھٹکے کے ساتھ دور فضا میں نکل گئے. یہی بعد کو ٹھنڈے ہو کر نظام شمسی کے توابع بنے۔ اس وقت یہ سب ٹکڑے آفتاب کے گرد گھوم رہے ہیں اور ان ہی میں سے ایک ہماری زمین ہے۔
زمین ابتدا میں ایک شعلہ کی حالت میں سورج کے گرد گھوم رہی تھی، مگر پھر فضا میں مسلسل حرارت خارج کرنے کی وجہ سے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، یہ عمل کروڑوں برس ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ بالکل سرد ہوگئی۔ مگر سورج کی گرمی اب بھی اس پر پڑرہی تھی جس کی وجہ سے بخارات اٹھنا شروع ہوئے اور گھٹاؤں کی شکل میں اس کی فضا کے اوپر چھا گئے۔ پھر یہ بادل برسنا شروع ہوئے اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ زمین کا اوپری حصہ اگرچہ ٹھنڈا ہو گیا تھا مگر اس کا اندرونی حصہ اب بھی گرم تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین سکڑنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کے اندر کی گرم گیسوں پر دباؤ پڑا اور وہ باہر نکلنے کے لئے بے قرار ہوگئیں، تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد زمین پھٹنے لگی۔ جگہ جگہ بڑے بڑے شگاف پڑگئے اس طرح بحری طوفانوں، خوفناک زلزلوں اور آتش فشاں دھماکوں میں ہزاروں سال گزر گئے۔ ان ہی زلزلوں سے زمین کا کچھ حصہ اوپر ابھر آیا اور کچھ حصہ دب گیا۔ دبے ہوئے حصوں میں پانی بھر گیا اور وہ سمندر کہلائے اور ابھرے ہوئے حصوں نے براعظم کی صورت اختیار کی بعض اوقات یہ ابھار اس طرح واقع ہوا کہ بڑی بڑی اونچی باڑھیاں سی بن گئیں، یہ دنیا کے پہلے پہاڑ تھے۔
ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ ایک ارب ۲۳ کروڑ سال ہوئے، جب پہلی بار زمین پر زندگی پیدا ہوئی ۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے جو پانی کے کنارے وجود میں آئے۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جانور پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔ کئی ہزار سال تک زمین پر صرف
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues