معبود کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۲
حادثہ کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی۔ کئی صدیوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔
کیا انسان کی قیمت بس اسی قدرہے، مادہ کو کوٹیے، پیٹیے، جلائیے، کچھ بھی کیجیے، مادہ ختم نہیں ہوتا، وہ ہر حال میں اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے مگر انسان جو مادہ سے برتر مخلوق ہے کیا اس کے لئے بقا نہیں. یہ زندگی جو ساری کائنات کا خلاصہ ہے، کیا وہ اتنی بے حقیقت ہے کہ اتنی آسانی سے اسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ کیا انسانی زندگی کا منتہا بس یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے ننھے سے وطن پر چند دنوں کے لئے پیدا ہو اور پھر فنا ہوکر رہ جائے تمام انسانی علم اور ہماری کامرانیوں کے سارے واقعات ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائیں اور کائنات اس طرح باقی رہ جائےگویا نسل انسانی کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔
اس سلسلہ میں دوسری چیز جو صریح طور پر محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے تو یہ ایک ایسی زندگی ہے جس میں ہماری امنگوں کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ ہر انسان لامحدود مدت تک زندہ رہنا چاہتا ہے، کسی کو بھی موت پسند نہیں، مگر اس دنیا میں ہر پیدا ہونے والا جانتا ہے کہ وہ ایسی زندگی سے محروم ہے۔ آدمی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ وہ دکھ درد اور ہر قسم کی تکلیفوں سے محفوظ رہ کر زندگی گزارے، مگر حقیقی معنوں میں کیا کوئی شخص بھی ایسی زندگی حاصل کرسکتا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنے حوصلوں کی تکمیل کا آخری حد تک موقع ملے، وہ اپنی ساری تمناؤں کو عمل کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے مگر اس محدود دنیا میں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں، یہ کائنات اس کے لئے بالکل ناسازگار معلوم ہوتی ہے وہ ہر چند قدم کے بعد ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے، کائنات صرف ایک حد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے، اس کے بعد ہم کو مایوس اور ناکام لوٹا دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی زندگی محض غلطی سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک آئی ہے جو در اصل اس کے لئے نہیں بنائی گئی تھی اور جو بظاہر زندگی اور اس کے متعلقات سے بالکل بے پروا ہے۔ کیا ہمارے تمام جذبات و خیالات اور ہماری تمام
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues