Al-Risala · February 1983 · page 23

معبود کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

خواہشیں غیر حقیقی ہیں جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں اور ہمارے ذہنوں میں بالکل الٹ ٹپ طریقے سے پیدا ہو گئے ہیں. وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہو رہی ہے اور جن کو اپنے سینہ میں لئے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہو جاتی ہے کہ وہ انہیں حاصل نہ کر سکی، کیا ان احساسات کی کوئی منزل نہیں۔ کیا وہ انسانوں کے ذہن میں بس یونہی پیدا ہو رہے ہیں جن کے لئے نہ تو ماضی میں کوئی بنیاد موجود ہے اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی مقام ہے۔

ساری کائنات میں صرف انسان ایک ایسا وجود ہے جو کل (Tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارہ میں سوچتا ہے اور اپنے آئندہ حالات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض جانور مثلاً چونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں یا بيا گھونسلے بناتا ہے۔ مگر ان کا یہ عمل غیر شعوری طور پر محض عادتاً ہوتا ہے۔ ان کی عقل اس کا فیصلہ نہیں کرتی کہ انہیں خوراک جمع کر کے رکھنا چاہئے تاکہ کل ان کے کام آسکے یا ایسا گھر بنا نا چاہئے جو موسموں کے رد و بدل میں تکلیف سے بچائے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو تمام دوسری چیزوں سے زیادہ موقع ملنا چاہئے، جانوروں کے لئے زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی کل نہیں رکھتے، کیا اسی طرح انسانی زندگی کا بھی کوئی کل نہیں ہے۔ ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے، فردا کا تصور جو انسان میں پایا جاتا ہے اس کا صریح تقاضا ہے کہ انسان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہو جتنی آج اسے حاصل ہے انسان "کل" چاہتا ہے مگر اس کو صرف "آج" دیا گیا ہے !

اسی طرح جب ہم سماجی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو ایک خلا کا زبردست احساس ہوتا ہے۔ ایک طرف مادی دنیا ہے جو اپنی جگہ پر بالکل مکمل نظر آتی ہے۔ وہ ایک متعین قانون میں جکڑی ہوئی ہے اور اس کی ہر چیز اپنے مقرر راستہ پر چلی جا رہی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مادی دنیا ویسی ہی ہے جیسی کہ اسے ہونا چاہئے مگر انسانی دنیا کا حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں صورت حال اس کے برعکس ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہئے تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page