پیغمبر کی ضرورت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۱
(Binding Energy) کا نام دیا گیا ہے۔ گویا مادہ اپنے آخری تجزیہ میں توانائی ہے، میں پوچھتا ہوں ، کیا یہ توانائی قابل مشاہدہ چیز ہے۔ کیا کسی بھی خورد بین کے ذریعہ اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید سائنس نے خود یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں ایک ناقابل مشاہدہ چیز ہے اس کو انسانی آنکھ نہمیں دیکھ سکتی۔
اب اگر رسول کی بات کو ماننے کے لئے ہم یہ شرط لگائیں کہ وہ جن حقیقتوں کی خبر دے رہا ہے وہ ہیں چھونے اور دیکھنے کو ملنی چاہئیں تب ہم اسے مانیں گے تو یہ ایک نہایت نامعقول بات ہوگی۔ یہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے تاریخ ہند کا کوئی طالب علم ایسٹ انڈیا کمپنی کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے استاد سے کہے کہ کمپنی کے تمام کردار کو میرے سامنے لا کر کھڑا کر دو اور وہ میرے سامنے تمام گزرے ہوئے واقعات کو دہرائیں، تب میں تمہاری تاریخ کو تسلیم کروں گا۔
پھر وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کی روشنی میں دیکھ کر ہم یہ فیصلہ کریں کہ یہ دعوت صحیح ہے یا غلط، اور ہم کو اسے قبول کرنا چاہئے یا نہیں۔ میرے نزدیک اس دعوت کو جانچنے کے تین خاص پہلو ہیں۔ اول یہ کہ اس کی توجیہہ حقیقت سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔ دوسرے یہ کہ زندگی کے انجام کے بارہ میں اس کا دعویٰ محض دعویٰ ہے یا اس کی کوئی دلیل بھی اس کے یہاں ملتی ہے۔ اور تیسرے یہ کہ اس کے پیش کئے ہوئے کلام میں کیا ایسی کوئی نمایاں خصوصیت پائی جارہی ہے کہ اس کو خدا کا کلام کہا جاسکے۔ ان تینوں پہلوؤں کے اعتبار سے جب ہم رسول کے کام کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک پر وہ نہایت کامیابی کے ساتھ پورا اتر رہا ہے۔
۱۔ رسول نے کائنات کی جو توجیہہ کی ہے اس میں ہماری تمام پیچیدگیوں کا حل موجود ہے۔ ہمارے اندر اور ہمارے باہر جتنے سوالات پیدا ہوتے ہیں ان سب کا وہ بہترین جواب ہے۔
۲۔ زندگی کے انجام کے بارہ میں اس کا جو دعویٰ ہے اس کے لئے وہ ایک قطعی دلیل بھی اپنے پاس رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ زندگی میں وہ اس انجام کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues