پیغمبر کی ضرورت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰۰
بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص فلکیات کا مطالعہ ریاضی کے بغیر کرنے کی کوشش کرے اور کہے کہ وہ فلکیاتی سائنس کی صرف ان ہی دریافتوں کو تسلیم کرے گا جو کھلی آنکھوں سے اسے نظر آتی ہوں، ریاضیات کی دلیل اس کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے، یہ مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ آدمی کو اپنی قوتوں کا صحیح علم نہیں ہے۔ انسان کے پاس مشاہدہ کی جو قوتیں ہیں وہ نہایت محدود ہیں، حقیقت ہمارے لئے ایک ناقابل مشاہدہ چیز ہے۔ ہم اسے محسوس تو کر سکتے ہیں مگر اسے دیکھ نہیں سکتے۔ ایک زمانہ میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا چار چیزوں سے مل کر بنی ہے۔ "آتش و آب و خاک و باد۔ " دوسرے لفظوں میں قدیم انسان اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ حقیقت ایک ایسی چیز ہے جسے دیکھا جا سکتا ہے، مگر جدید تحقیقات نے اس کی غلطی واضح کر دی ہے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی تمام چیزیں اپنے آخری تجزیہ میں ایٹم کے باریک ترین ذرات پر مشتمل ہیں۔ ایٹم ایک اوسط درجہ کے سیب سے اتنا ہی چھوٹا ہوتا ہے جتنا کہ سیب ہماری زمین سے۔ یہ ایٹم ایک طرح کا نظام شمسی ہے جس کا ایک مرکز ہے، اس مرکز میں پروٹان اور نیوٹران ہوتے ہیں اور اس کے چاروں طرف الیکٹران (برقیے)، مختلف مداروں میں اسی طرح حرکت کرتے ہیں جیسے سورج کے گرد اس کے تابع سیارے حرکت کرتے ہیں۔ ایک برقیہ جس کا قطر سینٹی میٹر کا پانچ ہزار کرورواں حصہ ہو اور جو اپنے مرکز کے چاروں طرف ایک سیکنڈ میں کروڑوں مرتبہ چکر کاٹتا ہو اس کے تصور کی کوشش کرنا سعی لا حاصل ہے۔ جب کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ اندرونی عالموں کی آخری حد ہے۔ ممکن ہے ان عالموں کے اندر ان سے بھی چھوٹے عالم ہوں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری مشاہدہ کی قوت کس قدر کمزور ہے، پھر سوال یہ ہے کہ پروٹان اور نیوٹران کے وہ انتہائی چھوٹے ذرے جو باہم مل کر مرکز بناتے ہیں وہ کس طرح قائم ہیں۔ آخر یہ پروٹان اور نیوٹران مرکز سے باہر کیوں نہیں نکل پڑتے۔ وہ کیا چیز ہے جو انھیں ایک دوسرے سے باندھے ہوئے ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان مادی ذرات کے درمیان ایک توانائی موجود ہے اور یہی توانائی مرکز کے برقی اور غیر برقی ذرات کو آپس میں جکڑے ہوئے ہے۔ اس کو طاقت یکجائی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues