Al-Risala · February 1983 · page 33

May God prosper this undertaking

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳

سفر کیا تھا، اس موقع پر چرچل نے سٹالن کو اتحادی فوجی کارروائی کے متعلق اپنی اسکیم کی تفصیلات بتائیں۔ چرچل کا بیان ہے کہ اسکیم کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ سٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں، اس کی زبان سے نکلا خدا اس مہم کو کامیاب کرے۔

May God prosper this undertaking

اسی کے ساتھ نبی کی آواز کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ وہ ان تمام سوالات کی مکمل توجیہ ہے جو انسان معلوم کرنا چاہتا ہے اور جو کائنات کے مطالعہ سے ہمارے ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔ کائنات کے مطالعہ نے ہمیں اس نتیجہ پر پہنچایا تھا کہ یہ محض اتفاق سے نہیں پیدا ہو سکتی، ضرور اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔ اس توجیہ میں اس سوال کا جواب موجود ہے۔ ہم کو نظر آرہا تھا کہ کائنات محض ایک مادی مشین نہیں ہے اس کے پیچھے کوئی غیر معمولی ذہن ہونا چاہئے جو اسے چلا رہا ہو۔ اس تو جیہ میں اس سوال کا جواب بھی موجود ہے۔ ہم کو اپنے محسن کی تلاش تھی اور ایک ایسی ہستی کی تلاش تھی جو ہمارا سہارا بن سکے۔ اس توجیہ میں اس کا جواب بھی موجود ہے۔ ہم کو یہ بات بہت عجیب معلوم ہورہی تھی کہ انسانی زندگی اتنی مختصر کیوں ہے۔ ہم اس کو لامحدود دیکھنا چاہتے تھے۔ ہم اپنے لئے ایک ایسے وسیع میدان کی تلاش میں تھے جہاں ہماری امنگوں کی تکمیل ہوسکے۔ اس توجیہ میں اس کا جواب بھی موجود ہے۔ پھر انسانی حالات کا شدید تقاضا تھا کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح ہو اور اچھے اور برے الگ الگ کر دئے جائیں، ہر ایک کو اس کا صحیح مقام دیا جائے۔ اس سوال کا جواب بھی اس توجیہہ میں موجود ہے۔ غرض زندگی سے متعلق سارے سوالات کا مکمل جواب ہے اور اتنا بہتر جواب ہے کہ اس سے بہتر جواب کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ اس سے وہ سارے سوالات حل ہو جاتے ہیں جو کائنات کے مطالعہ سے ہمارے ذہن میں پیدا ہوئے تھے۔

۲۔ اس کی دعوت کی دوسری نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ زندگی کے انجام کے بارہ میں وہ جو نظر یہ پیش کرتا ہے اس کا ایک واقعاتی نمونہ خود اپنی زندگی میں ہمیں دیکھ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا اسی طرح ظالم اور مظلوم کو لئے ہوئے ختم نہیں ہو جائیگی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page