Al-Risala · February 1983 · page 34

May God prosper this undertaking

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۴

بلکہ اس کے انجام پر کائنات کا رب ظاہر ہوگا اور سچوں اور جھوٹوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر دے گا، اس دن کے آنے میں جو دیر ہے وہ صرف اس مہلت کار کے ختم ہونے کی ہے جو تمہارے لئے مقدر ہے۔

یہ بات وہ صرف کہہ کر نہیں چھوڑ دیتا ، بلکہ اسی کے ساتھ اس کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس عدالت کا ایک نمونہ مالک کائنات میرے ذریعہ سے اسی دنیا میں تم کو دکھائے گا۔ میرے ذریعہ سے وہ حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کرے گا، اپنے فرماں برداروں کو عزت دے گا اور اپنے نافرمانوں کو ذلیل کرکے انھیں عذاب میں مبتلا کرے گا۔ یہ واقعہ بہر حال ظہور میں آئے گا خواہ دنیا کے لوگ کتنی ہی مخالفت کریں اور ساری طاقت اس کے مٹانے پر لگا دیں جس طرح آخرت کا ہونا قطعی طور پر مقدر ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اسی طرح میری زندگی میں اس کا نمونہ دکھایا جانا بھی لازمی ہے، یہ ایک نشان ہوگا آنے والے دن کا اور یہ دلیل ہوگی اس بات کی کہ کائنات کی تعمیر عدل پر ہوئی ہے اور یہ کہ میں جس طاقت کا نمائندہ ہوں وہ ایک ایسی طاقت ہے جس کی طاقت سب پر بالا ہے یہ طاقت ایک روز تم کو اپنے سامنے کھڑا کر کے تمام اگلے پچھلے انسانوں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ چیلنج وہ اس وقت دیتا ہے جب کہ وہ تنہا ہے، پوری قوم اس کی دشمن ہوگئی ہے، خود اپنا ملک اس کو جگہ دینے کے لئے تیار نہیں، اس کے قریب ترین اعزاء نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، اس کے پاس مادی وسائل و ذرائع میں سے کچھ بھی نہیں۔ ایسا ایک شخص پورے یقین کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ میں غالب ہوں گا اور میرے ذریعہ سے خدا کی عدالت زمین پر قائم ہوگی۔ سننے والے اس کا مذاق اڑاتے ہیں مگر وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنا کام کرتا چلا جا رہا ہے ملک کی اکثریت اس کے قتل کا فیصلہ کرتی ہے، اس کی معاشیات تباہ کر دیتی ہے، اس کو جلا وطنی پر مجبور کرتی ہے۔ اس کو مٹانے پر اپنا سارا زور صرف کر دیتی ہے، مگر اس کے مقابلہ میں یہ سب کچھ بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ اگر چہ بہت تھوڑے لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں، ایک طرف معمولی اقلیت ہوتی ہے اور دوسری طرف زبردست

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page