قرآن اپنی دلیل آپ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۹
زندگی کا بوجھ اٹھا سکیں ۔ اس کے برعکس قرآن نے تمدنی زندگی میں عورت اور مرد کا جو مقام متعین کیا ہے وہ دونوں کی پیدائشی ساخت کے عین مطابق ہے اور قانون اور حقیقت کے درمیان کوئی تضاد پیدا نہیں ہوتا ۔
۲ - مارکس نے انقلاب کا فلسفہ یہ بتایا ہے کہ جس طرح ایک عالمگیر قانونِ کشش سے ستارے حرکت کر رہے ہیں اسی طرح کچھ ناگزیر تاریخی قوانین ہیں جو سماجی تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ قوانین مسلسل طور پر اپنا کام کر رہے ہیں اور اسی کے مطابق انسانی زندگی میں انقلابات آتے ہیں مگر اس فلسفہ کو مرتب کرنے کے ساتھ ہی اس نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ " دنیا کے مزدور و متحد ہو جاؤ "
ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ اگر سماجی تبدیلیوں کا کوئی ناگزیر تاریخی قانون ہے تو سیاسی جدوجہد کی ضرورت نہیں اور اگر سیاسی جدوجہد کے ذریعہ انقلاب آتا ہے تو پھر ناگزیر تاریخی قانون کے کیا معنی ۔
اس کے برعکس قرآن انسانی ارادہ کو تسلیم کرتا ہے ۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ زندگی میں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ انسان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ مادی دنیا کی طرح ان واقعات کی کوئی لازمی منطق نہیں ہے ۔ بلکہ انسانی کوشش انھیں کوئی بھی شکل دے سکتی ہے ۔ یقیناً فطرت کے کچھ قوانین ہیں اور اس سلسلہ میں وہ اہم کام کرتے ہیں مگر ان کے کام کی نوعیت یہ ہے کہ وہ انسانی کوششوں کا ساتھ دے کر اسے منزل تک پہنچا دیتے ہیں نہ کہ خود انسانی کوششیں ان قوانین کا خارجی ظہور ہیں ۔ اس طرح قرآن کے نظریہ اور اس کی دعوت میں کوئی تضاد نہیں ۔ وہ جب اپنے نظریہ کو قائم کرنے کے لئے لوگوں کو پکارتا ہے تو وہ اپنے فلسفہ کی تصدیق کرتا ہے نہ کہ اس کی تردید ۔ اس کے برعکس مارکسی فلسفہ اس کے عملی پروگرام سے صاف ٹکرا رہا ہے ، کمیونسٹ پارٹیوں کا وجود حقیقی معنوں میں مارکسی فلسفہ کی تردید ہے ، کمیونسٹ مینی فسٹو کا آخری فقرہ اس کے پہلے فقرہ کو رد کر دیتا ہے ۔ قرآن کی تعلیمات کو اگر آپ انسانی فلسفوں کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھیں تو اس قسم کی بہت مثالیں پائیں گے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues