قرآن اپنی دلیل آپ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۰
۳۔ قرآن کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ تقریباً ڈیڑھ ہزار برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس زمانے میں کتنے انقلابات آئے ہیں، تاریخ میں کتنی الٹ پلٹ ہوئی ہے، زمانہ نے کتنی کروٹیں بدلی ہیں، مگر اب تک اس کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہوئی۔ وہ ہر زمانہ کے عقلی امکانات اور تمدنی ضروریات کا مسلسل ساتھ دیتا چلا جارہا ہے۔ اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری کسی مقام پر بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر زمانہ کے مسائل پر حاوی ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ اس کتاب عظیم کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو کسی بھی انسانی کتاب کو اب تک حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ انسان کا بنایا ہوا ہر فلسفہ چند ہی دنوں بعد اپنی غلطی ظاہر کر دیتا ہے، مگر صدیوں پر صدیاں گزرتی جارہی ہیں اور اس کتاب کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آتا۔
یہ قانون اس وقت بنایا گیا تھا جب عرب کے غیر متمدن اور منتشر قبائل میں اسلامی ریاست قائم کرنے کا مسئلہ درپیش تھا، مگر اس کے بعد صدیوں تک وہ اسلامی حکومتوں کی تمام ضرورتیں پوری کرتا رہا اور موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی نہ صرف یہ کہ وہ زمانہ کا ساتھ دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے بلکہ صرف وہی ایک ایسا نظام ہے جو حقیقی معنوں میں زندگی کے مسائل کو حل کر سکتا ہے۔ ڈیڑھ ہزار برس پہلے جس طرح اس نے اپنی برتری ثابت کی تھی آج بھی وہ اسی طرح تمام فلسفوں پر فوقیت رکھتا ہے۔
یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ زندگی کے بارہ میں اس نے جو نظریات پیش کئے تھے اور فرد اور جماعت کے عمل کے لئے جو خاکہ تجویز کیا تھا وہ آج بھی نہ تو پرانا ہوا ہے اور نہ اس میں کسی نقص کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ اس دوران میں کتنے فلسفے پیدا ہوئے اور مرگئے کتنے نظام بنے اور بگڑ گئے مگر قرآن کے نظریہ کی صداقت اور اس کے عملی نظام کی افادیت آج بھی مسلم ہے۔ وہ ہوا اور پانی کی طرح زمانہ کی قید سے آزاد ہے۔
میں یہاں دونوں پہلوؤں سے ایک ایک مثال پیش کروں گا۔
قرآن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کائنات کا محرک ایک ذہن ہے جو بالارادہ اسے حرکت دے رہا ہے۔ قرآن نے یہ دعویٰ یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے بہت پہلے کیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے فلسفی اور سائنس داں اٹھے جنہوں نے بڑے زور شور کے ساتھ ہم
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues