داعی اور مدعو
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۶
داعی اور مدعو
سڑک پر ہر وقت آدمی چلتے رہتے ہیں، مگر آنے جانے والوں میں کبھی" ملاقات" نہیں ہوتی۔ کیونکہ ایک داعیں سے نکل جاتا ہے اور دوسرا بائیں سے۔ جب کہ ملاقات کے لئے ضروری ہے کہ دونوں آدمی ایک رخ پر چل رہے ہوں ۔
" داعیں بائیں " کا اصول سڑک کے لئے بہت کارآمد ہے مگر وہ ہر موقع کے لئے کارآمد نہیں۔ زندگی کے ایسے راستے بھی ہیں جہاں ملاپ درکار ہے نہ کہ ادھر اُدھر سے کترا کر نکل جانا۔ ان راستوں میں آپ کو بھی اسی رخ پر چلنا پڑے گا جس رخ پر دوسرا چل رہا ہے۔ ورنہ آپ ان راستوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دعوت کا راستہ ایسا ہی ایک راستہ ہے۔ یہاں اعراض کے بجائے ملاقات کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ ورنہ داعی اور مدعو کا سامنا ہی نہ ہوگا اور جب سامنا نہ ہوگا تودعوت کس طرح پیش کی جائے گی اور وہ کس کے کان میں پڑے گی ۔
مدعو اگر انگریزی زبان بولنے والا ہے تو آپ ہندی زبان بول کر اس کو اپنی دعوت سے باخبر نہیں کر سکتے۔ ضروری ہے کہ داعی بھی وہی زبان بولے جو مدعو کی زبان ہے۔ مدعو اگر ایک قومیت کا ہنگامہ کھڑا کئے ہوئے ہے تو آپ دوسری قومیت کا ہنگامہ کھڑا کر کے اس کو اپنے پیغام سے قریب نہیں کر سکتے۔ اس کے بجائے آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ قومیت سے بلند ہو کر ایسی اجتماعی اساس تلاش کریں جو دونوں کے درمیان مشترک ہو۔ مدعو اگر آپ سے روٹھ کر اپنا منہ پھیرے ہوئے ہے تو آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ اپنا منہ بھی دوسری طرف پھیر لیں۔ اس کے بجائے آپ کو یک طرفہ طور پر شکایات کو ختم کرنا ہوگا تاکہ دونوں کے درمیان وہ معتدل فضا پیدا ہو جو کسی سنجیدہ پیغام کو سنانے کے لئے ضروری ہے۔
قومی مسلک میں جو چیز امرت ہے وہ دعوتی مسلک میں زہر ہے۔ مفاد پرستانہ سیاست میں جو اصول زندگی کا پہلا گر ہے وہ دعوت حق کی سیاست میں صرف اس قابل ہے کہ اس کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ شخصی قیادت کے کاروبار میں جو چیز کامیابی کا زینہ ہے وہ دعوت کے عمل میں صرف ناکامی تک پہنچانے والا ہے۔ ایک طریقہ کو دوسرے طریقہ سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔
داعی کو ہمیشہ مدعو کی رعایت کرتا ہے اور غیر داعی صرف اپنی رعایت کرنا جانتا ہے۔ داعی حق کا جھنڈا کھڑا کرنے کی فکر ہوتی ہے اور غیر داعی کو صرف اپنا جھنڈا کھڑا کرنے کی ۔ دائی مدعو کا خیر خواہ ہوتا ہے اور غیر دائی صرف اپنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues