Al-Risala · February 1983 · page 45

اسی مضمون میں آگے چل کر انھوں نے لکھا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵

انسان کا المیہ

ڈاکٹر آتم پرکاش (۱۹۸۲۔ ۱۹۲۸) ہندوستان کے ایک نامور سرجن تھے۔ وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں شعبہ سرجری کے ہڈ تھے۔ ڈاکٹر پرکاش کو پدم بھوشن کا انعام ملا تھا۔ سرجری کی عالمی کانگریس ۷ افروزی کو دہلی میں ہونے والی تھی جس کی صدارت کی کرسی ان کا انتظار کر رہی تھی۔ مگر ۱۱ فروری کو ان پر دل کا دورہ پڑا اور اسپتال پہنچتے پہنچتے ان کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۵۴ سال تھی۔ سرجری پر ہونے والی ورلڈ کانگریس کی کامیابی ان کے ذاتی وقار کو بہت زیادہ بڑھا دیتی۔ اس بنا پر وہ اس کے معاملات میں غیر معمولی دل چسپی لے رہے تھے۔ انھوں نے راشٹرپتی سنیو آرڈی کو آمادہ کر لیا تھا کہ وہ کانگریس کا افتتاح کریں ۔ مگر جب سارے انتظامات مکمل ہو چکے تو راشٹرپتی بھون سکریٹریٹ سے بتایا گیا کہ راشٹرپتی ان کے اجلاس میں صرف اس وقت شرکت کر سکیں گے جب کہ مرکزی وزیر صحت بھی وہاں موجود ہوں ۔ پروٹوکول (آداب شاہی) کے مطابق ایسا ہونا ضروری ہے۔

اس سے پہلے ڈاکٹر پرکاش کے منصوبہ میں وزیر صحت کو بلانا شامل نہ تھا۔ مگر اب ضروری ہو گیا کہ وزیر صحت کو بھی شرکت اجلاس کی دعوت دی جائے۔ ڈاکٹر پرکاش نے وزیر صحت کے دفتر کا طواف شروع کیا۔ مگر اب یہاں دوسری رکاوٹ حائل تھی۔ وزیر صحت اجلاس میں شرکت پر راضی نہ ہو سکے۔ ایک ایسے اجلاس میں شرکت کرنا ان کی عزت نفس کے خلاف تھا جس کے اولین پروگرام میں ان کو شامل نہ کیا گیا ہو۔ یہ صدمات ڈاکٹر آتم پرکاش کے لئے اتنے سخت ثابت ہوئے کہ اجلاس کے تین دن پہلے ان پر دل کا سخت دورہ پڑا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ کوئی شخص اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتا۔ مگر ایک اخباری مبصر (ہندوستان ٹائمز ۱۶ فروری ۱۹۸۲) کے یہ الفاظ بالکل درست ہیں کہ موت کے طویل سفر پر روانہ ہونے سے پہلے وہ دہلی کے سب سے زیادہ پریشان آدمی تھے:

He was the most worried man in town before he took the long road آج آدمی وقار کے کھونے کو بھی برداشت نہیں کرپاتا۔ پھر پھر آنے والی دنیا میں آدمی کا کیا حال ہو گا ۔ جب اس کو بھوک اور پیاس لگے گی مگر وہاں کھانا نہ ہوگا جس کو وہ کھائے اور پانی نہ ہوگا جس سے وہ اپنی پیاس بجھائے۔ وہ تیز دھوپ میں جل رہا ہوگا مگر اس کے لئے کوئی سایہ نہ ہوگا جس کے نیچے وہ پناہ لے۔ عذاب اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوگا مگر وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا جو اس کی مدد کو پہنچے۔ آہ وہ انسان جو کنکری کی چوٹ کو برداشت نہیں کرپاتا حالانکہ اس کے اوپر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ کر گرنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page