Al-Risala · March 1984 · page 2

پیغمبر اسلام کا اسوہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۲

پیغمبر اسلام کا اسوہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص تھا جس کا نام مسیلمہ بن حبیب تھا۔ وہ یمامہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے پیغمبر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ سلسلہ بھیجی میں اس نے اپنے دو آدمیوں کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجا جس کا مضمون یہ تھا: من مسیلمة رسول الله الى محمد رسول الله مسیلمہ خدا کے رسول کی طرف سے محمد خدا کے رسول کے سلام عليك ۔ اما بعد فانی قد أشرکت في نام تمہارے اوپر سلامتی ہو۔ اس کے بعد یہ کہ میں الامر معك ۔ و ان لنا نصف الارض ول قريش نبوت میں تمہارے ساتھ تمھارے شریک بنا دیا گیا ہوں نصف الارض ولكن قريشا قوم يغدون اور یہ کہ نصف زمین (عرب) ہمارے لئے ہے اور نصف (سیرۃ ابن هشام) زمین قریش کے لئے۔ مگر قریش حد سے تجاوز کرنے والے لولاگ ہیں۔

مسیلمہ کے سفیر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کا خط پڑھا گیا تو آپ نے سفیروں سے پوچھا کہ تم لوگوں کا کہنا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہیں کئے جاتے تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا۔ اما و اللہ لو ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقكما، اس کے بعد آپ نے مسیلمہ کو حسب ذیل خط لکھوایا: بسم الله الرحمن الرحيم۔ من رسول الله الى بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد اللہ کے رسول کی طرف مسیلمة الكذاب ۔ السلام علیٰ من اتبع الهدىٰ سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ سلامتی ہے اس شخص کے لئے جو اما بعد فان الارض لله يورثها من يشاء ہدایت کی پیروی کرے۔ اور زمین اللہ کی ہے۔ وہ من عباده والعاقبة للمتقين اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور انجام صرف متقیوں کے لئے ہے۔

اس واقعہ میں ایک طرف سچے رسول اور جھوٹے رسول کا تقابل ملتا ہے۔ مسیلمہ کا خط واضح طور پر جھوٹے رسول کا خط ہے اور پیغمبر اسلام کا خط واضح طور پر سچے رسول کا۔

دوسری بات جو پیغمبر اسلام کے اسوہ سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ غیر قوم کا سفیر خواہ وہ بدترین مجرم کیوں نہ ہو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو اُس کے وطن کی طرف واپس کر دیا جائے گا۔ ان معاملات میں بین الاقوامی اصول ہی اسلام کا اصول ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page