Al-Risala · March 1984 · page 3

25 واں گھنٹہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۳

25 واں گھنٹہ

ایک فرانسیسی مصنف نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کا نام ہے ۲۵ واں گھنٹہ:

25th Hour

اس کتاب میں مصنف نے دنیا کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے دکھایا ہے کہ دنیا دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو مٹانے کی ایسی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں جس کا آخری نتیجہ صرف انسانیت کی مجموعی ہلاکت ہو۔ ہتھیاروں کی اندھا دھند ریس نے دنیا کو خطرناک ہتھیاروں کا گدام بنا دیا ہے۔ مسلسل جنگی تیاریوں نے دنیا کو اپنی بربادی کے آخری کنارے پہنچا دیا ہے۔

مصنف لکھتا ہے کہ ہمارا ۲۴ واں گھنٹہ ختم ہو چکا ہے 24th hour is past اب پچیسواں گھنٹہ (خاتمہ کا گھنٹہ) شروع ہونے والا ہے۔

مصنف نے جو بات ” انسانی جنگ “ کے بارہ میں کہی ہے وہ ” خدائی قیامت “ کے بارہ میں زیادہ صحیح ہے۔ خدا نے موجودہ دنیا کو محدود مدت کے لئے امتحان کے واسطے پیدا کیا ہے۔ یہ مدت صرف خدا کے علم میں ہے، وہ ہم کو تعین کے ساتھ معلوم نہیں۔ کسی بھی لمحہ خدا اس مدت کے خاتمہ کا اعلان کر سکتا ہے۔ اور اس کے بعد دنیا اور اس کا ساراتمدن عظیم زلزلہ کے ذریعہ تباہ ہو جائے گا۔ اور اس کے بعد ایک نئی ابدی اور کامل دنیا تخلیق کی جائے گی۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمین پر ہمارا ہر لمحہ گویا آخری لمحہ ہے۔ اگر ہم اپنی صبح میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہم شام نہ کر سکیں۔ اگر ہم اپنی شام میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہمیں دوبارہ صبح دیکھنے کو نہ ملے۔

موجودہ دنیا میں ہمارا ہر لمحہ آخری لمحہ ہے۔ ہر وقت یہ امکان ہے کہ انسانیت اپنی مہلت عمر پوری کر چکی ہو۔ انسان اپنے ” ۲۴ ویں گھنٹے “ کو ختم کر کے ۲۵ ویں فیصلہ کن گھنٹے میں داخل ہو جائے۔

لوگ نیو کلیر جنگ کے خطرہ سے ڈر رہے ہیں۔ حالاں کہ انہیں خدا کی طرف سے قیامت کا صور پھونکا جانے سے ڈرنا چاہئے۔ کیوں کہ نیو کلیر جنگ کا ہونا یقینی نہیں۔ مگر قیامت کا آنا یقینی بھی ہے اور اس کا انجام ابدی بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page